’جیو نیوز‘ گریب

سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین خان نے 26ویں آئینی ترمیم کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ایک بھی آئینی لفظ ہمارے سامنے نہیں بتایا گیا، ایک صاحب نے تو یہ تک کہہ دیا کہ 26ویں ترمیم کو بھول جائیں۔ ہم سب قوم کو جوابدہ ہیں۔

26ویں آئینی ترمیم کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ نے کی۔

دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے اکرم شیخ سے سوال کیا کہ آپ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ 

سینئر قانون دان اکرم شیخ نے کہا کہ میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوا ہوں، ایک سائل کے طور پر۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کے وکیل تو لطیف کھوسہ ہیں۔ اکرم شیخ نے کہا کہ لطیف کھوسہ میرے وکیل نہیں، انہوں نے میرے نام کے ہجے بھی درست نہیں لکھے۔

جسٹس امین الدین خان نے سوال کیا کہ آپ سے پوچھے بغیر لطیف کھوسہ نے درخواست کر دی ہے؟ جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ میں ذاتی حیثیت میں آیا ہوں، میں نے میڈیا پر سنا کہ عابد زبیری اپنی ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے، میں دعا سے سماعت کا آغاز کرنا چاہتا ہوں۔

جسٹس امین الدین خان نے اکرم شیخ سے سوا کیا کہ ہمیں راستہ بتائیے کہ کیسے فل کورٹ بنانے کا وقت دے دیں؟ 

اکرم شیخ نے کہا کہ مجھے سنیں گے تو میں آئینی راستہ دوں گا میرے پاس کہانیاں تو نہیں ہیں سنانے کو، مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جائیں گے، مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم پابند ہیں اپنے حلف اور آئین کے، ابھی تک ایک بھی آئینی لفظ ہمارے سامنے نہیں بتایا گیا، ایک صاحب نے تو یہ تک کہہ دیا کہ 26ویں ترمیم کو بھول جائیں، ہم سب قوم کو جوابدہ ہیں۔

سینئر قانون دان اکرم شیخ نے کہا کہ 26ویں ترمیم نے پورے آئین کی بنیاد اور ریاست کا ایک عضو توڑ کر رکھ دیا ہے، آئین اور قانون کے طالب علم کے طور پر کہتا ہوں کہ ہمیں قانون کے اصول دیکھنے ہوں گے۔ 1997 کا ملک اسد کیس درست نہیں تھا، وہیں سے خرابی کا آغاز ہوا، اُمید ہے کہ اللّٰہ میرے ججز کو ہمت دے گا کہ وہ 26ویں ترمیم کو کالعدم قرار دیں گے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس کے لیے پہلے فیصلہ تو ہو جائے کہ بینچ کیا ہو گا، 26ویں ترمیم اب آئین کا حصہ ہے یا تو آپ کہیں کہ اس کو آئین سے نکال دیں۔

جسٹس امین الدین خان نے اکرم شیخ سے کہا کہ پہلے آپ شاعری کرتے ہیں پھر آپ مذہبی باتیں کر رہے ہیں، پچھلے 15 منٹ سے آپ نے ایک بھی آئینی اور قانون بات نہیں کی۔

سینئر قانون دان اکرم شیخ نے کہا کہ سر معاف کیجئے گا، میں تو بتا رہا ہوں کہ فل کورٹ کے فیصلے موجود ہیں کہ 8 ججز یہ کیس نہیں سن سکتے، پوری سپریم کورٹ کو کہنے دیں کہ آرٹیکل 191 اے درست ہے،  میں نے آپ کے اسٹاف سے کہا کہ بروہی صاحب کی بنیادی آئین کی کتاب نکال دیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس موجود نہیں ہے، اسی بینچ کے کیس سننے پر بضد کیوں ہیں؟ عدالت کو رول آف اسٹارے ڈیسائسے فالو کرنا ہو گا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 8 ممبر بینچ بڑے بینچ کے فیصلے کو ختم نہیں کر سکتا مان لیا، جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ سر آپ نے ایک سال بعد تو اس کیس کو سعادت بخشی ہے، مجھے دوستوں نے کہا کہ جسٹس مندوخیل کے سوالات کے لیے تیار ہو کر جاؤں، میں نے کہا کہ جسٹس مندوخیل پر پورا اعتماد ہے کہ 24 ججز کو بٹھانے کی تجویز قبول کریں گے، میں نے برطانوی مقدمات کے حوالے دیے آپ نے فیصلے میں لکھا لیکن میری معروضات نہ لکھیں، ہمارے ملک میں الیکشن ہوا کچھ لوگوں کو خیال گزرا کہ اس کی اسکروٹنی ہو جائے گی، اسکروٹنی نہ ہو جائے اس وجہ سے 26ویں ترمیم کی بنیاد پڑی، یہ مقدمہ کیا ہے؟ یہی تو ہے، ہماری 18ویں آئینی ترمیم آئی تو میں نے 8 دن بحث کی۔

جسٹس امین الدین خان نے اکرم شیخ سے کہا کہ دنیا جہاں کی باتیں کرتے جائیں اور بینچ کی تشکیل پر کوئی آئینی نکتہ نہیں بتائیے گا، آپ سمجھتے ہیں کہ مجاز فورم پر جانا ہے تو چیف جسٹس کے پاس جائیں، ہم یہاں آئینی بینچ کے طور پر بیٹھے ہیں جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ آئینی بینچ کا کردار ہے جو آپ کو دیا گیا۔ 

جسٹس مندوخیل نے کہا کہ درست ہے کہ ہمارے دو کردار ہیں، ایک عمومی جج اور دوسرا آئینی بینچ، اگر کہا جائے کہ فل کورٹ میں بیٹھے تو ہم آئینی بینچ کی ٹوپی اتار کر دوسری پہن لیں گے۔

جسٹس شاہد بلال نے اکرم شیخ سے کہا کہ آپ نے کہا کہ ہم 8 ججز 26ویں ترمیم کو کالعدم قرار نہیں دے سکتے کہ ہم بینیفشری ہیں، پھر وہ کون سے ججز ہیں جو 26ویں ترمیم سے متاثرہ نہیں اور یہ کیس سنیں۔

سینئر قانون دان اکرم شیخ نے کہا کہ اس تنازعے کا واحد حل یہی ہے کہ پوری سپریم کورٹ بیٹھ کر اس کو حل کرے، کوئی 15 رکنی بنچ اس کا حل نہیں کر سکتا۔ جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ 26ویں ترمیم متنازع ہے۔ 

اکرم شیخ نے کہا کہ سر انگریزی میں یہی کہوں گا، انڈر چیلنج ہے، آپ کے دائیں بائیں اہل زبان بیٹھے ہیں سر یہ انگریزی سے اردو ترجمہ کا معاملہ ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بس ٹھیک ہے مان لیا کہ 26ویں ترمیم متنازع ہے آگے چلیں۔ 

جسٹس محمد علی مظہر نے اکرم شیخ سے کہا کہ 24 کے 24 جج بیٹھ کر اس مقدمے کو سنیں؟ اکرم شیخ نے کہا کہ سر میرا یہ مؤقف ہے اگر کسی جج کا کوئی ضمیر خلش کرے یا ملامت ہو تو وہ نہ سنے، میرا تو بس یہ مؤقف ہے کہ میری عدالت پر کوئی حرف نہ آئے، منیر اے ملک صاحب کے اصولی مؤقف کی تائید کرتا ہوں، ان کے دلائل اپناتا ہوں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ منیر اے ملک نے تو کہا کہ 16 جج کیس سنیں۔ 

سینئر قانون دان اکرم شیخ نے کہا کہ میں منیر اے ملک کے قانونی حوالوں کے ساتھ ہوں، ہم نےبہت بھگت لیا اس ادارے کو، اب قائد اعظم اور پاکستان کے بانیوں کے وژن کے مطابق یہ ادارہ چلائیں۔ جس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ بھی قائد اعظم کی تصویر لگا کر کہتا ہے قائد اعظم کے وژن کے مطابق ہیں۔

اکرم شیخ نے کہا کہ سر میں نے پونے گھنٹے میں دلائل مکمل کیے ہیں۔ جس پر   جسٹس امین الدین خان نے اکرم شیخ سے مکالمہ کیا کہ آپ نے احساس کیا ہے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ کی ریٹائرمنٹ جسٹس امین الدین کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ختم ہو۔ جسٹس جمال مندوخیل نے اکرم شیخ سے کہا کہ آپ نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ 

جسٹس نعیم اختر افغان نے اکرم شیخ سے کہا کہ آپ نے کہا خواہش ہے 24 جج یہ کیس سنیں، لیکن کوئی قانونی راستہ نہیں دکھایا، آپ کی خواہش تو ایسے ہے کہ ’انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔‘ جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ میں غالب صاحب کے شعر سے ختم کرتا ہوں، ’غلط ہے جزب دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے، نا کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو؟‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سینئر قانون دان اکرم شیخ نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جسٹس امین الدین خان نے اکرم شیخ نے کہا کہ میں نے اکرم شیخ سے کہا کہ اکرم شیخ نے کہا کہ سر کہ 26ویں ترمیم 26ویں ترمیم کو جسٹس مندوخیل کہا کہ آپ کہ آپ نے ہیں کہ کیا کہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن