بلوچستان میں دہشتگردی، ہمارا کام صرف فاتحہ اور مذمت کرنا رہ گیا ہے، ہدایت الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
بلوچستان اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ امن و امان پر فنڈز خرچ ہوتے ہیں۔ سالانہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود صوبے میں دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر و رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی ہے۔ امن و امان پر اربوں خرچ کرنے کے باوجود امن قائم نہیں ہو رہا ہے۔ دہشتگردی کے واقعات کے بعد ذمہ داران کو معطل نہیں کیا جاتا۔ ہمارا کام صرف فاتحہ اور مذمت تک رہ گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے متعدد واقعات رونما ہونے کے بعد بھی کسی ذمہ دار یا افسر کو معطل نہیں کیا گیا۔ ہماری زندگی میں صرف فاتحہ خوانی اور مذمت کرنا رہ گیا ہے۔ بلوچستان میں ہر طرح کی دہشت گردی موجود ہے۔ گوادر میں مسلح لوگ فی گاڑی 15 ہزار روپے بھتہ لے رہے ہیں۔ انتظامیہ کہتی ہے یہ ہمارے لوگ ہیں، دہشت گردی نہیں ہیں۔ امن و امان پر فنڈز خرچ ہوتے ہیں، میں کس کے ہاتھ میں اپنا خون تلاش کروں۔ سالانہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود صوبے میں دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی ہے۔ بلوچستان میں امن کہیں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ دہشت گردی کے متعدد واقعات ہونے کے بعد بھی کوئی افسر معطل نہیں کیا گیا۔ 80 ارب روپے امن و امان کے لیے دینے والوں سے پوچھنا چاہئے۔ شاہراہوں پر چیک پوسٹوں کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلوچستان میں کے باوجود ہونے کے نہیں ہو
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔