بلوچستان کے 7 میں سے 6 ڈویژنز میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
بلوچستان حکومت نے صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد صوبے کی 7 میں سے 6 انتظامی ڈویژنز میں صوبائی اور وفاقی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا ہے، جس کے بعد ان ڈویژنز کو ’اے ایریاز‘ قرار دے دیا گیا ہے۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کا باضابطہ نوٹی فکیشن جمعرات کو جاری کیا گیا ہے۔
ان 6 ڈویژنز میں کوئٹہ، قلات، مکران، ژوب، رخشان اور نصیر آباد شامل ہیں، تاہم سبی ڈویژن، جس میں ڈیرہ بگٹی، سبی، کوہلو، ہرنائی اور زیارت کے اضلاع شامل ہیں، کی لیویز فورس کو بلوچستان پولیس میں ضم نہیں کیا گیا۔
بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے نوٹی فکیشن کے مطابق کوئٹہ، ژوب، مکران، رخشان، نصیر آباد اور قلات ڈویژنز کی تمام ریونیو حدود کو فوری طور پر بلوچستان پولیس کے دائرہ اختیار میں ’اے ایریاز‘ قرار دیا گیا ہے۔
نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ علاقوں میں خدمات انجام دینے والے تمام لیویز اہلکار (صوبائی اور سابق وفاقی لیویز دونوں) اور سی پیک ونگ کے اراکین کو بلوچستان پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پولیس میں ضم دیا گیا گیا ہے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز