افغانستان کو سبق سیکھا دیا ہے، مزید دہشتگردی برداشت نہیں ہوگی، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
وزیراعظم کے مشیر اور سینیئر ن لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں فتنہ اور فساد پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں ملے گی۔
فیصل آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو 40 سال سے فتنہ اور دہشتگردی پھیلا رہے تھے ان کا بھی پچھلے دنوں ناطقہ بند کر دیا، ان کو بھی سبق سیکھا دیا کہ تمہارے ملک سے پاکستان میں دہشتگرد داخل نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان سے دہشتگردی کا سلسلہ فی الفور بند ہوگا، قطر اور ترکیہ کے مشکور ہیں، خواجہ آصف
ان کا کہنا تھا کہ اگر تم نے دہشتگردی روکنے کا انتظام نہیں کیا تو تمہاری ٹھکائی ایسے ہی ہوگی جس طرح ایک رات میں ہوئی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ افغانستان کو بتا دیا ہے کہ یہ ایک رات سو راتوں کے برابر بھی ہوسکتی ہے، ہم اپنے جوانوں اور افسروں کے جنازے روز روز نہیں اٹھاسکتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان دہشتگردی رانا ثنا اللہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان دہشتگردی رانا ثنا اللہ رانا ثنا اللہ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔