سیاست! حکمت کا ہنر یا جہالت کا شور؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیاست دراصل وہ فن ہے جس میں دشمن کو مسکرا کر زیر کیا جاتا ہے، اور قومی مفاد کی حفاظت بغیر تلوار چلائے کی جاتی ہے، مگر یہ فن سب کے بس کی بات نہیں۔ کچھ رہنما اپنی زبان سے قوموں کا وقار بڑھاتے ہیں، اور کچھ اپنی انا سے اسے مجروح کر دیتے ہیں۔ دنیا آج وزیراعظم پاکستان کی سیاست اور حکمت کو داد دے رہی ہے۔ برطانیہ کے گارڈین نے لکھا کہ: ’’ڈونلڈ ٹرمپ کے مغرورانہ رویّے سے دنیا کے تمام رہنما پریشان تھے، مگر اسے جس شخص نے حکمت کے ساتھ سنبھالا، وہ شہباز شریف تھے‘‘۔
یہ تعریف کسی فردِ واحد کی نہیں بلکہ پاکستان کے وقار کی تھی۔ ایک طرف ہمارا ازلی دشمن بھارت ہے جو اس بات پر تلملا رہا ہے کہ پہلے تو پاکستان نے اسے میدانِ جنگ میں دھول چٹائی، اور اب سفارتی محاذ پر بھی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، ساتھ ہی ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ ہے جسے بھارت کی طرح پاکستان کی ہر کامیابی پر غصہ آتا ہے۔ بھارتی جارحیت کے دوران اس گروہ کے یوٹیوبرز دشمن کے ٹاک شوز میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف مشورے دیتے رہے کہ اے پاکستان دشمنو! تمہارے لیے سنہری موقع ہے، پاکستانی (یعنی پی ٹی آئی کے کارکن) اپنے افواج کے ساتھ نہیں بلکہ ہمارے مجرم لیڈر نمبر 804 کے ساتھ ہے۔ آزاد کشمیر میں بے چینی کی لہر اٹھی تو ان لوگوں نے وہاں بھی جلتی پر تیل کا کام کیا۔ پاک افغان جنگ سے قبل اسد قیصر نے اپنے ’’کپتان‘‘ جیسی زبان استعمال کرتے ہوئے یہ بڑھک ماری کہ: ’’تمہارا باپ بھی افغانستان پر حملہ نہیں کرسکتا!‘‘، پھر ایک ایسے وقت میں جب پاکستان نے اپنی حکمت ِ سے عالمی فورم پر مرکز ِ نگاہ بننے کا اعزاز حاصل کیا، تو انھی لوگوں نے اپنے لیڈر کے امریکا اور ٹرمپ نواز بیانات کے گٹر میں جھانکنے کے بجائے وزیراعظم ِ پاکستان پر طعن و تشنیع شروع کر دی جس سے صاف ظاہر ہوا کہ شہباز شریف کے شرم الشیخ کانفرنس میں خطاب پر تنقید کسی سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ذاتی عناد کا مظہر تھی۔
اگر امیر ِ جماعت ِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن شہباز شریف کے اس عمل پر تنقید کریں تو یہ ان کے شایانِ شان بھی ہے اور جماعت ِ اسلامی کی اْس پْرعزم روایت کا تسلسل بھی، جس نے ہمیشہ دنیا کے سب سے بڑے شیطان کے خلاف کلمہ ٔ حق بلند کیا۔ مگر جس سیاسی گروہ کی ساری امیدیں ہی ٹرمپ سے وابستہ ہیں وہ کس منہ سے وزیراعظم پر تنقید کرسکتے ہیں جب کہ اْن کی اپنی حالت یہ ہے کہ اْن کے ’’کپتان‘‘ کے بچے امریکا میں ٹرمپ سے فریاد کر رہے تھے کہ: ڈونلڈ انکل! ہمارے ابّو کو جیل سے نکال دو!
اب اْن کے پیروکار شہباز شریف پر طنز کر رہے ہیں اور ان کی اصل پریشانی یہ ہے کہ اْنہوں نے پاکستان کے لیے سفارتی کامیابی کیوں حاصل کی! یہی تو اندھی تقلید ہے کہ جس کی وجہ سے ان کو اپنے راہنما کے دوہرے معیار نظر نہیں آتے، وہ وطن کے مفاد میں کی گئی ہر بات میں سازش ڈھونڈ لیتے ہیں۔ یہ ذہنی غلامی کا ایسا خول ہے جس سے وہ باہر ہی نہیں آنا چاہتے۔ انہیں وہی عمل برا لگتا ہے جو پاکستان کے مفاد میں ہو، اور وہی بات اچھی لگتی ہے جو قوم کے لیے نقصان دہ ہو۔ یہ وہ طبقہ ہے جو آئین کی بالادستی، حق گوئی، سچائی اور حقائق پر نہیں بلکہ اپنے کپتان کے پرفریب نعروں کے جادو پر ایمان رکھتا ہے۔
قرآنِ کریم میں سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے: ’’مومنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز مت بنائیں جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہاں، یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرزِ عمل اختیار کرجائو‘‘۔
یہی وہ اصول ہے جو سیاست میں تقویٰ اور تدبر کا توازن قائم کرتا ہے۔ وزیراعظم ِ پاکستان کا عمل اس قرآنی آیت مبارکہ کے منافی معلوم نہیں ہوتا۔ انہوں نے اسی قرآنی حکمت پر عمل کیا، یعنی نہ دشمنی میں حد سے بڑھے، نہ دوستی میں خودداری بیچ ڈالی۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ میں وزیراعظم کا خطاب، چین سے اظہارِ تشکر، کشمیر و غزہ کے مظلوموں کی وکالت، اور جنگ بندی میں امریکا کے کردار سے متعلق تھا۔ یہ سب اس بات کی مثال ہیں کہ حکمت ہی اصل طاقت ہے اور اسی کا نام سیاست ہے، جہاں کبھی تعریف بھی تلوار سے زیادہ مؤثر ہتھیار بن جاتی ہے۔ مگر دوسری طرف کپتان کی ’’غیرت‘‘ ملاحظہ ہو۔ اب دو برس سے زیادہ گزر گئے مگر اس نے آج تک غزہ کے مظالم پر اپنے سسرال کی مذمت نہیں کی۔ پچھتر ہزار فلسطینی شہید ہو گئے، لاکھوں زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو گئے، مگر عمران خان کی زبان یا ٹویٹ پر اسرائیل کے خلاف ایک لفظ نہیں آیا۔ ہاں البتہ! امریکا کے صدر کے لیے تو تعریفی جملے آتے رہے، مگر غزہ کے بچوں کے لیے نہ دکھ، نہ احتجاج، نہ دعا۔
تاریخ خاموش نہیں رہتی۔ وہ پوچھے گی، اور بار بار پوچھے گی: اے کپتان! تْو نے اسرائیل کی مذمت کیوں نہ کی؟ امیر ِ جماعت ِ اسلامی کا یہ سوال اب وقت کے ماتھے پر نقش ہو چکا ہے، اور آنے والی نسلیں عمران خان سے جواب طلب کرتی رہیں گی۔ کیونکہ سیاست صرف کھوکھلے نعروں کا نام نہیں، ذمے داری کا نام ہے۔ قوموں کی عزت جذبات سے نہیں بلکہ حکمت سے بچتی ہے۔ وزیراعظم نے دنیا کو بتایا کہ دشمن سے بھی بات کی جا سکتی ہے، وہ بھی خود جھکے بغیر اور اسے جھکائے بغیر۔ یہی سیاست کا اصل کمال ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہباز شریف پاکستان کے نہیں بلکہ کے لیے
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔