اسلام آباد ہائی کورٹ کا زلفی بخاری کی جائیداد نیلامی کا عمل روکنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے زلفی بخاری کی جائیداد نیلامی کا عمل روکنے کا حکم دیدیا۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جائیداد نیلامی کے نیب فیصلے کیخلاف زلفی بخاری کی ہمشیرہ کی درخواست پر سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے زلفی بخاری کی بہن سکینہ بخاری کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل بابر اعوان نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ نیلامی کا عمل جاری ہے لیکن ہمیں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ اشتہار جاری ہوا تو اس سے ہمیں نیلامی کا علم ہوا۔ جائیداد کس نے خریدی ہے اس کے کوئی دستاویزات بھی سامنے نہیں آئے۔ تقریباً اکیس سو کنال مشترکہ اراضی ہے جس کی تقسیم ابھی نہیں ہوئی۔ بابر اعوان نے کہا کہ دیگر مالکان بھی ہیں لیکن میں صرف سکینہ بخاری کا وکیل ہوں۔
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم پر اعتراضات اٹھا دیئے
عدالت نے زلفی بخاری کی جائیداد نیلامی کا عمل روکنے کا حکم دیتے ہوئے نیب سے مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔ کیس کی مزید سماعت نومبر کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: جائیداد نیلامی زلفی بخاری کی نیلامی کا عمل
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔