طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ تبدیلی کی وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نےخیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی وجہ بتادی۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں طارق فضل چوہدری، شہرام تراکئی اور ناصر حسین شاہ نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی تبدیلی اس لیے کی گئی کیونکہ علی امین گنڈاپور ٹکراؤ کم کرتے تھے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر کے پی پولیس نے بلٹ پروف گاڑیوں پر اعتراض کیا تو وفاقی حکومت کو بتانا چاہیے تھا کہ کیا مسئلہ ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے محمود اچکزئی کو نیا اپوزیشن لیڈر بنانے کی حمایت کردی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا پوچھ کر بتانے کا مطلب پنجاب حکومت سے پوچھنا تھا، مریم نواز فلڈ ریلیف کارڈ کا مقصد متاثرین کی آباد کاری مکمل کرنا ہے۔
طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ آئی جی سے کہتے کہ چیف سیکرٹری اور وزیر داخلہ سے کہیں ایسی گاڑیاں چاہئیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اڈیالہ میں جیل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ یہاں ساڑھے 8 ہزار قیدی ہیں، گنجائش 2 ہزار کی ہے جبکہ بہت زیادہ قیدی موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔