کھابے لامے کی جان لیوا حادثے میں موت کی خبریں وائرل، حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
دنیا بھر میں مقبول ٹک ٹاک اسٹار کھابے لامے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہ ایک خطرناک کار حادثے میں ہلاک ہوگئے۔
گزشتہ دنوں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، بشمول یوٹیوب، فیس بک اور ایکس پر پوسٹ وائرل ہوئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ کھابے لامے ایک کار حادثے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔
کچھ جعلی پوسٹ میں تباہ شدہ گاڑی کی تصاویر بھی شیئر کی گئیں جنہیں کھابے لامے سے منسوب کیا گیا تاہم اب ان جھوٹی خبروں کی تردید کردی گئی ہے۔
ریئلٹی چیک کے بعد رائٹرز اور اسنوپس سمیت متعدد فیکٹ چیکنگ اداروں نے واضح کیا کہ کھابے لامے کے کسی حادثے کی کوئی مصدقہ خبر موجود نہیں، یہ تمام دعوے کلک بیٹ ویب سائٹس اور فشنگ لنکس پھیلانے والے صفحات سے منسلک پائے گئے۔
بعد ازاں کھابے لامے کے قریبی ذرائع نے بھی تصدیق کی کہ وہ زندہ اور بالکل خیریت سے ہیں۔
یاد رہے کہ کھابے لامے جو سینیگال میں پیدا ہوئے اور اٹلی میں پلے بڑھے، انہوں نے 2020ء میں کورونا وبا کے دوران اپنی نوکری کھونے کے بعد ٹک ٹاک پر مزاحیہ انداز میں بنائی گئی ویڈیوز سے شہرت حاصل کی۔
وہ لفظوں کے بغیر مزاحیہ ویڈیوز کے لیے جانے جاتے ہیں اور 160 ملین سے زائد فالوورز رکھتے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کھابے لامے
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں