خیبر پختونخوا: سہیل آفریدی کابینہ کی فہرست تیار، کون کون شامل ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے نو منتخب وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کے باعث تاحال کابینہ تشکیل نہیں دی، تاہم انہوں نے کابینہ کے لیے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے جو پہلے مرحلے میں حلف اٹھائیں گے۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ذرائع کے مطابق پارٹی بانی عمران خان نے نئے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کو کابینہ بنانے کا مکمل اختیار دیا ہے، ساتھ ہی چند ناموں کو شامل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے کابینہ کے لیے نام فائنل کر لیے ہیں اور وہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ان سے باقاعدہ منظوری لیں گے۔ اس کے ساتھ وہ کچھ غیر منتخب ناموں پر پارٹی کے اعتراضات سے بھی آگاہ کریں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی گزشتہ دنوں اہم ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور وہ پُرامید ہیں کہ جلد ان کی عمران خان سے ملاقات ہو جائے گی۔
’کابینہ کی تشکیل 2 مرحلوں میں ہوگی‘پیر کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ کابینہ کی تشکیل کے لیے ان کی عمران خان سے ملاقات ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ذریعے ملاقات کا امکان ہے جس کے لیے سہیل آفریدی نے تیاری کر رکھی ہے۔ کابینہ کے لیے ناموں کو فائنل کرنے سے قبل انہوں نے پارٹی رہنماؤں اور اپنے قریبی حلقوں سے تفصیلی مشاورت بھی کی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی کابینہ 2 مرحلوں میں تشکیل دے رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 8 وزراء حلف اٹھائیں گے، جن کے نام حتمی طور پر طے پا چکے ہیں اور ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید اراکین کو شامل کیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں کون شامل ہوگا؟پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کی نامزدگی کے بعد پارٹی رہنماؤں اور قریبی ساتھیوں کی جانب سے کابینہ کے لیے مختلف نام تجویز کیے گئے ہیں، اور ہر ایک کی کوشش ہے کہ اپنے حمایتیوں کو شامل کرایا جائے۔
باخبر ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی کابینہ میں زیادہ تر وہی افراد ہوں گے جو علی امین گنڈاپور کی کابینہ کا حصہ تھے، تاہم قبائلی اضلاع سے چند نئے چہرے شامل کیے جانے کے امکانات بھی ہیں۔ یوتھ سے بھی مشیر اور معاونینِ خصوصی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں 8 اراکین حلف اٹھائیں گے جن میں ممکنہ طور پر مینا خان آفریدی، فضل شکور، عمر ایوب کے بھائی ارشد ایوب، عدنان قادری، اور آفتاب عالم کے نام شامل ہیں، جبکہ مبینہ کرپشن کی بنیاد پر علی امین کی کابینہ سے نکالے گئے شکیل خان کا نام بھی ان 8 میں شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کی کوشش ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی کابینہ کا باضابطہ اعلان کیا جائے، تاہم اگر ملاقات میں تاخیر ہوئی تو ابتدائی 8 اراکین کے حلف اٹھانے کے امکانات ہیں، جبکہ باقی اراکین عمران خان سے ملاقات کے بعد حلف اٹھائیں گے۔
مزید ذرائع کے مطابق مزمل اسلم اور مصدق عباسی بھی سہیل آفریدی کابینہ کا حصہ ہوں گے، جبکہ بیرسٹر سیف کے حوالے سے سہیل آفریدی راضی نہیں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی چاہتے ہیں کہ جن اراکین کے خلاف پارٹی میں اختلافات ہیں، ان کے نام عمران خان یا مرکزی قیادت کی جانب سے اعلان کیے جائیں تاکہ کارکنوں کا دباؤ ان پر نہ آئے۔
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کابینہ میں خواتین کو بھی شامل کریں گے، جبکہ حال ہی میں علی امین گنڈاپور کابینہ سے برطرف فیصل ترکئی اور اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ بھی شامل ہوں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ علی امین کی برطرفی کے بعد صوبائی حکومت کے معاملات میں اسد قیصر اور شہرام ترکئی کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے، جبکہ بیرسٹر گوہر پشاور میں نظر نہیں آرہے۔
ذرائع نے بتایا کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد کابینہ ناموں میں تبدیلی کے بھی امکانات ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی عمران خان سے ملاقات کے بعد سہیل آفریدی کابینہ ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی سہیل آفریدی نے حلف اٹھائیں گے کہ سہیل آفریدی پہلے مرحلے میں کابینہ کے لیے علی امین
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔