خیبر پختونخوا کے نو منتخب وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کے باعث تاحال کابینہ تشکیل نہیں دی، تاہم انہوں نے کابینہ کے لیے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے جو پہلے مرحلے میں حلف اٹھائیں گے۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ذرائع کے مطابق پارٹی بانی عمران خان نے نئے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کو کابینہ بنانے کا مکمل اختیار دیا ہے، ساتھ ہی چند ناموں کو شامل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے کابینہ کے لیے نام فائنل کر لیے ہیں اور وہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ان سے باقاعدہ منظوری لیں گے۔ اس کے ساتھ وہ کچھ غیر منتخب ناموں پر پارٹی کے اعتراضات سے بھی آگاہ کریں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی گزشتہ دنوں اہم ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور وہ پُرامید ہیں کہ جلد ان کی عمران خان سے ملاقات ہو جائے گی۔

’کابینہ کی تشکیل 2 مرحلوں میں ہوگی‘

پیر کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ کابینہ کی تشکیل کے لیے ان کی عمران خان سے ملاقات ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ذریعے ملاقات کا امکان ہے جس کے لیے سہیل آفریدی نے تیاری کر رکھی ہے۔ کابینہ کے لیے ناموں کو فائنل کرنے سے قبل انہوں نے پارٹی رہنماؤں اور اپنے قریبی حلقوں سے تفصیلی مشاورت بھی کی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی کابینہ 2 مرحلوں میں تشکیل دے رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 8 وزراء حلف اٹھائیں گے، جن کے نام حتمی طور پر طے پا چکے ہیں اور ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید اراکین کو شامل کیا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں کون شامل ہوگا؟

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کی نامزدگی کے بعد پارٹی رہنماؤں اور قریبی ساتھیوں کی جانب سے کابینہ کے لیے مختلف نام تجویز کیے گئے ہیں، اور ہر ایک کی کوشش ہے کہ اپنے حمایتیوں کو شامل کرایا جائے۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی کابینہ میں زیادہ تر وہی افراد ہوں گے جو علی امین گنڈاپور کی کابینہ کا حصہ تھے، تاہم قبائلی اضلاع سے چند نئے چہرے شامل کیے جانے کے امکانات بھی ہیں۔ یوتھ سے بھی مشیر اور معاونینِ خصوصی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں 8 اراکین حلف اٹھائیں گے جن میں ممکنہ طور پر مینا خان آفریدی، فضل شکور، عمر ایوب کے بھائی ارشد ایوب، عدنان قادری، اور آفتاب عالم کے نام شامل ہیں، جبکہ مبینہ کرپشن کی بنیاد پر علی امین کی کابینہ سے نکالے گئے شکیل خان کا نام بھی ان 8 میں شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کی کوشش ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی کابینہ کا باضابطہ اعلان کیا جائے، تاہم اگر ملاقات میں تاخیر ہوئی تو ابتدائی 8 اراکین کے حلف اٹھانے کے امکانات ہیں، جبکہ باقی اراکین عمران خان سے ملاقات کے بعد حلف اٹھائیں گے۔

مزید ذرائع کے مطابق مزمل اسلم اور مصدق عباسی بھی سہیل آفریدی کابینہ کا حصہ ہوں گے، جبکہ بیرسٹر سیف کے حوالے سے سہیل آفریدی راضی نہیں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی چاہتے ہیں کہ جن اراکین کے خلاف پارٹی میں اختلافات ہیں، ان کے نام عمران خان یا مرکزی قیادت کی جانب سے اعلان کیے جائیں تاکہ کارکنوں کا دباؤ ان پر نہ آئے۔

ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کابینہ میں خواتین کو بھی شامل کریں گے، جبکہ حال ہی میں علی امین گنڈاپور کابینہ سے برطرف فیصل ترکئی اور اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ بھی شامل ہوں گے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ علی امین کی برطرفی کے بعد صوبائی حکومت کے معاملات میں اسد قیصر اور شہرام ترکئی کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے، جبکہ بیرسٹر گوہر پشاور میں نظر نہیں آرہے۔

ذرائع نے بتایا کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد کابینہ ناموں میں تبدیلی کے بھی امکانات ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی عمران خان سے ملاقات کے بعد سہیل آفریدی کابینہ ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی سہیل آفریدی نے حلف اٹھائیں گے کہ سہیل آفریدی پہلے مرحلے میں کابینہ کے لیے علی امین

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار