data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251022-08-17
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ عمران خان اور نئے وزیراعلیٰ کی ملاقات ضروری ہے لیکن اگر وزیراعلیٰ کی ملاقات نہیں ہوتی تو صوبے کو کابینہ کے بغیر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کا بانی سے ملنا ضروری ہے، پارٹی نے مختصر کابینہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے پوری کابینہ کی توسیع کے لیے بعد میں عمران خان سے اجازت لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خود دیکھیں گے کون زیادہ اہل ہے اسے کابینہ میں شامل کیا جائے گا، امید تو یہی ہے ہائی کورٹ کی اجازت سے وزیر اعلیٰ کی ملاقات ہوجائے، اگر وزیراعلیٰ کی ملاقات نہیں ہوتی تو صوبے کو کابینہ کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کے پی حکومت کو کتنی بلٹ پروف گاڑیاں دی گئیں، معلوم ہوا ہے جو گاڑیاں دی گئیں وہ یو این کے استعمال میں تھیں، پی ٹی آئی ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے، دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عمل ضروری ہے، نیشنل ایکشن پلان میں درج ہے دہشت گردی کے خلاف صوبوں کی استعداد بڑھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے کے پی کو بہترین گاڑیاں فراہم کریں، دہشت گردی کے مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے لیے ٹائم فریم ہونا چاہیے اور انہیں بے عزت کرکے واپس روانہ کرنے کے بجائے عزت سے بھیجا جائے، ہم چاہتے ہیں یہ لوگ واپس جاکر ہمارے لیے خطرہ نہ بنیں، ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہم سے ہے، پاکستان کے خلاف افغانستان سمیت کوئی بھی زمین استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے بلائے گئے اجلاس میں وزیراعلیٰ کے پی کی عدم شرکت کو ایشو نہیں بنانا چاہیے، سہیل آفریدی نے بانی سے ملاقات کی درخواست کی تھی جو جائز درخواست تھی، نواز شریف اور زرداری سے بھی لوگ ملتے رہے، آج ہم نے بانی کی ہدایات کے مطابق محمود خان اچکزئی کی درخواست نیشنل اسمبلی میں جمع کرائی ہے اور محمود خان اچکزئی کو ہم نے اپنا اپوزیشن لیڈر نامزد کیا ہے، 74 اراکین اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کی درخواست پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این اے 18 ہری پور پر ہمیں اِسٹے نہیں ملا، بانی نے این اے 18 کے ضمنی انتخاب لڑنے کی اجازت دی ہے، این اے 18 ہری پور کی نشست پر عمر ایوب کی اہلیہ کے کاغذات جمع ہوچکے ہیں، سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں 4 سو ووٹوں سے ہارنا ہمارے لئے کنسرن کا میٹر ہے ہمیں بڑا دکھ اور افسوس ہوا ہے، سپریم کورٹ بار کے الیکشنز میں شکست کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے کی ملاقات ضروری ہے کے خلاف

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن