صدر ٹرمپ نے بائنینس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ کو معاف کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی کی معروف شخصیت اور بائنینس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ کو معافی دے دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو اس بات کی تصدیق کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی خاتون نے صدر ٹرمپ کی طرف سے معافی قبول کرنے سے انکار کیوں کیا؟
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرو لائن لیوٹ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مسٹر ژاؤ کو معاف کردیا ہے۔
President Trump pardoned convicted Binance founder Changpeng Zhao, a White House official said https://t.
— Reuters (@Reuters) October 23, 2025
چانگ پینگ ژاؤ کو بائیڈن انتظامیہ نے کرپٹو کرنسی کے خلاف اپنی جنگ کے دوران مقدمے کا نشانہ بنایا تھا۔
بائنینس نے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
چانگ پینگ ژاؤ نے، جو کرپٹو کرنسی کی دنیا کی سب سے بااثر شخصیات میں سے ایک ہیں، گزشتہ سال بائنینس کے سی ای او کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
مزید پڑھیں:مجھے تم پسند نہیں ہو، شاید کبھی نہیں ہو گے! ٹرمپ کا آسٹریلوی سفیر کو دو ٹوک جواب
اس وقت کمپنی نے امریکی حکومت کے ساتھ 4.3 ارب ڈالر کے تصفیے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ یہ تصفیہ کمپنی کے مبینہ مالیاتی بے ضابطگیوں کی کئی سالہ تحقیقات کے بعد ہوا تھا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ژاؤ کو معافی دینے کے بعد اب ان کے دوبارہ بائنینس میں واپسی کا امکان پیدا ہوگیا ہے، وہ اپنی 4 ماہ کی قید کی سزا پہلے ہی کاٹ چکے ہیں۔
یہ معافی وائٹ کالر جرائم میں سزا پانے والے متعدد کاروباری شخصیات کو دی جانے والی معافیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ سے تلخ کلامی کے بعد یوکرینی صدر کا بیان آگیا، معافی مانگنے سے انکار
اس سال کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے کرپٹو ایکسچینج بِٹ میکس کے بانیوں کو بھی منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی کے مقدمے میں معاف کیا تھا۔
جب کہ الیکٹرک ٹرک کمپنی نِکولا کے بانی کو فراڈ کے مقدمے میں اور اوزی میڈیا کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی سزا کو معاف یا کم کردیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر جرائم ڈونلڈ ٹرمپ سفید پوش کرپٹو کرنسی منی لانڈرنگ وائٹ کالر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفید پوش کرپٹو کرنسی منی لانڈرنگ وائٹ کالر کرپٹو کرنسی ژاؤ کو معاف
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ