امریکا اور عالمی برادری اسرائیل پر جنگ بندی کے احترام کے لیے دباؤ ڈالیں، ترک صدر طیب اردوان
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
ترک صدررجب طیب اردوان نے عالمی برادری، خصوصاً امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری پر مجبور کرے۔
ایک بیان میں صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کے استحکام کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پرغزہ ٹاسک فورس کی ہر ممکن مدد کے لیے بھی تیار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حماس معاہدے کی پاسداری کر رہی ہے، جبکہ اسرائیل مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں مصروف ہے۔ اردوان نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکا سمیت دیگر ممالک اسرائیل پر عملی دباؤ ڈالیں تاکہ وہ معاہدے کی شرائط کا احترام کرے اور غزہ میں مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔