عمر ایوب اور شبلی فراز کی نااہلی کیخلاف اپیلیں آئینی بینچ میں سماعت کیلئے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ 27 اکتوبر کو سماعت کرے گا، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بنچ، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شکیل احمد بنچ میں شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز عمر ایوب اور شبلی فراز کی نااہلی کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کردیں۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ 27 اکتوبر کو سماعت کرے گا، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بنچ، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شکیل احمد بنچ میں شامل ہیں۔ واضح رہے کہ عمر ایوب اور شبلی فراز نے نو مئی مقدمات میں سزا کے بعد نااہلی کو چیلنج کر رکھا ہے، پشاور ہائی کورٹ نے دونوں رہنماؤں کی سرینڈر کیے بغیر اپیل ناقابل سماعت قرار دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔