سعودی عرب کا نیلگوں پانیوں میں تیرتا بیادہ جزیرہ دنیا بھر کے سیاحوں میں کیوں مقبول ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
جدہ میں سرخ سمندر کے نیلگوں پانیوں میں تیرتا بیادہ جزیرہ سعودی عرب کی دلکش اور پائیدار سیاحتی مقامات میں سے ایک کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے، جہاں قدرتی حسن اور سمندری حیاتیات کا امتزاج سیاحوں کو مسحور کر دیتا ہے۔
سفید ریت سے ڈھکا یہ جزیرہ بغیر کسی سبزے یا مستقل زمین کے، چاروں جانب سے سمندر کے 360 درجے کے دلکش نظارے پیش کرتا ہے۔ فیروزی پانی، نرم سفید ریت اور نایاب مرجان کی چٹانیں اسے مملکت کے نمایاں ترین میرین سیاحتی مقامات میں شمار کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: 2025 میں عالمی سیاحت کے 50 مقامات، فائنانشل ٹائمز کی فہرست میں شمالی پاکستان بھی شامل
تقریباً 700 میٹر طویل اور 4 میٹر تک گہرے پانیوں پر مشتمل یہ جزیرہ غوطہ خوری، سنورکلنگ، تیراکی، کائیکنگ اور واٹر اسکیئنگ جیسے کھیلوں کے لیے مثالی ہے۔
جزیرے تک کشتی کے ذریعے تقریباً 6 گھنٹے کے دورانیے کی سیر مقامی اور غیر ملکی سیاحوں میں بےحد مقبول ہو رہی ہے۔ یہاں کے رنگا رنگ مرجان اور سمندری حیات خطے میں سب سے خوبصورت سمجھے جاتے ہیں۔
بڑھتی ہوئی طلب کے باعث نجی کمپنیوں اور مقامی کاروباری افراد نے سمندری سیر کے منصوبوں میں اضافہ کیا ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں سعودی ریڈ سی اتھارٹی کے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت منظم انداز میں چلائی جا رہی ہیں تاکہ ساحلی سیاحت کو پائیدار بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب: کھیلوں کی سیاحت میں فروغ، 2030 تک 100 ارب ریال آمدن متوقع
ماحولیاتی نگرانی کے اقدامات کے تحت مرجان کی چٹانوں اور سمندری حیات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ جزیرے کے قدرتی خزانوں کو محفوظ رکھتے ہوئے سیاحوں کو ذمہ دار اور یادگار تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
پُرسکون تنہائی اور رومان خیز واٹر اسپورٹس کے امتزاج کے ساتھ بیادہ جزیرہ سرخ سمندر کا ایسا سیاحتی گوشہ بن چکا ہے جو فطرت کے حسن اور مہم جوئی دونوں کو یکجا کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیادہ جزیرہ سعودی عرب سمندر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیادہ جزیرہ بیادہ جزیرہ
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔