فرسودہ نظام حکومت کی تبدیلی کا وقت آگیا ہے‘فرحانہ شہاب
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( پ ر) جماعت اسلامی ضلع گڈاپ کی ناظمہ فرحانہ شہاب نے کہا ہے کہ اب یورپ و امریکہ کے فرسودہ نظام حکومت کی تبدیلی کا وقت آگیا ہے اس باطل نظام نے ملک و معاشرے کو زوال کی جانب دھکیل دیا ہے جس کی وجہ سے جھوٹ کرپشن، بد دیانتی اور لا قانونیت میں اصافہ ہوا ہے اس نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے کی جدوجہد میں ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے، ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی ضلع گڈاپ کے ناظمہ فرحانہ شہابنے “بدل دو نظام کو” کے سلوگن کے ساتھ ماہ نومبر میں مینار پاکستان پر منعقد ہونے والے سالانہ اجتماع عام کی بریفنگ کے حوالے سے ناظمات و زمہ داران کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا، بدل دو نظام کے عنوان کے تحت ہونے والا جماعتِ اسلامی کا اجتماعِ عام عوام خصوصاً خواتین میں کافی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ جماعت اسلامی ضلع گڈاپ کا خواتین نظم بھی اس کی تیاریوں میں پوری طرح سرگرم عمل ہے۔کارکنان کو نہ صرف خود اجتماع میں شرکت کے لیے جانے کے لیے بلکہ عام افراد میں بھی اجتماعِ عام کا شعور بیدار کرکے شرکت پر آمادہ کرنا ہے۔۔ اس سلسلے میں اسکول، کالج، بیوٹی پارلرز اور گھریلو خواتین سے رابطے کیے جارہیہیں۔ بلکہ اب اس کام میں تیزی لانے کی ضرورت اجتماع عام ملک و معاشرے میں ایک اچھی تبدیلی کی امید بن کر آرہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔