بھٹ شاہ: اجرک اورکاشی کے ہنرمندوں کی تربیتی کے لیے ورکشاپ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھٹ شاہ (نمائندہ جسارت)ثقافت کے محکمے بھٹ شاہ کی جانب سے وزارتِ تجارت کے تعاون سے اجرک، جنڈی اور کاشی کے ہنرمندوں کے لیے تربیتی اور آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں وزارتِ تجارت کے ڈائریکٹر جنرل محمد فاروق میمن، مینیجر لیگل آصف رضا، ریسرچ آفیسر سادیہ عبداللہ، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ثقافت محمد عادل دائوو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلچر سینٹر بھٹ شاہ مجتبیٰ جوکھیو سمیت بھٹ شاہ کے تقریباً تمام ہنرمندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل وزارتِ تجارت حکومتِ پاکستان محمد فاروق میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجرک، جنڈی اور دیگر ہنرمندوں کو رجسٹرڈ کیا جائے گا، اور نقلی اجرک یا جنڈی بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اصل اجرک اور جنڈی تیار کرنے والے کاریگروں کو رجسٹر کرنے کے بعد ایک خاص لوگو (نشان) دیا جائے گا جو ان کی مصنوعات پر لگے گا، تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ چیز اصلی اور ہاتھ سے بنی ہوئی ہے، مشین سے نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھی ٹوپی کے ہنرمندوں کو بھی رجسٹر کیا جائے گا۔ یہ تمام کام وزارتِ تجارت پاکستان، حکومتِ سندھ کے محکمہ ثقافت کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر ثقافت محمد عادل دا?و اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلچر مجتبیٰ جوکھیو نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبائی وزیرِ ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ کا مشن ہے کہ سندھ کے ہنرمندوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جائے، انہیں ان کی محنت کا پورا معاوضہ ملے، اور ان کے ہاتھ کی بنی ہوئی اشیاء جن میں اجرک، سندھی ٹوپی، رلی، کاشی، جنڈی سمیت دیگر مصنوعات شامل ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ہنرمندوں بھٹ شاہ کہا کہ
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔