data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھٹ شاہ (نمائندہ جسارت)ثقافت کے محکمے بھٹ شاہ کی جانب سے وزارتِ تجارت کے تعاون سے اجرک، جنڈی اور کاشی کے ہنرمندوں کے لیے تربیتی اور آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں وزارتِ تجارت کے ڈائریکٹر جنرل محمد فاروق میمن، مینیجر لیگل آصف رضا، ریسرچ آفیسر سادیہ عبداللہ، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ثقافت محمد عادل دائوو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلچر سینٹر بھٹ شاہ مجتبیٰ جوکھیو سمیت بھٹ شاہ کے تقریباً تمام ہنرمندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل وزارتِ تجارت حکومتِ پاکستان محمد فاروق میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجرک، جنڈی اور دیگر ہنرمندوں کو رجسٹرڈ کیا جائے گا، اور نقلی اجرک یا جنڈی بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اصل اجرک اور جنڈی تیار کرنے والے کاریگروں کو رجسٹر کرنے کے بعد ایک خاص لوگو (نشان) دیا جائے گا جو ان کی مصنوعات پر لگے گا، تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ چیز اصلی اور ہاتھ سے بنی ہوئی ہے، مشین سے نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھی ٹوپی کے ہنرمندوں کو بھی رجسٹر کیا جائے گا۔ یہ تمام کام وزارتِ تجارت پاکستان، حکومتِ سندھ کے محکمہ ثقافت کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر ثقافت محمد عادل دا?و اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلچر مجتبیٰ جوکھیو نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبائی وزیرِ ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ کا مشن ہے کہ سندھ کے ہنرمندوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جائے، انہیں ان کی محنت کا پورا معاوضہ ملے، اور ان کے ہاتھ کی بنی ہوئی اشیاء جن میں اجرک، سندھی ٹوپی، رلی، کاشی، جنڈی سمیت دیگر مصنوعات شامل ہیں ۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ہنرمندوں بھٹ شاہ کہا کہ

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار