میئرحیدرآباد ڈینگی کا خاتمہ کرنے میں ناکام ہیں،ایم کیوایم
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین اسمبلی سید وسیم حسین، عبدالعلیم خانزادہ اور راشد خان نے کہا ہے کہ میئر حیدرآباد کاشف شورو خود اور ان کی ٹیم کرپٹ ہے، شہر میں ڈینگی کی وباء نے شہریوں کو خوفزدہ کیا ہوا ہے، حکومت سندھ ڈینگی سے بچاؤ کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین اسمبلی نے کہا کہ اب شہر میں کوئی بھی شہری ڈینگی سے محفوظ نہیں رہا، ڈینگی سے ہونے والی اموات کو سرکاری سطح پر مانا نہیں جارہا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ریکارڈ رکھا جارہا ہے، شہر میں ڈینگی سے بچاؤ کیلئے اسپرے تک نہیں کرایا گیا جوکہ ضلعی انتظامیہ اور بلدیہ حیدرآبا دکی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر یوسی میں 12لاکھ روپے فنڈ ملتا ہے لیکن حالت یہ ہے کہ مچھر مار اسپرے تک نہیں کرایا جارہا ہے۔ لوگ بڑی تیزی سے ڈینگی کا شکار ہوکر یا تو موت کے منہ میں جارہے ہیں یا بیماری میں مبتلا ہورہے ہیں لیکن کوئی بھی ادارہ یا افسر اپنی ذمہ داری نبھانے کو تیا رنہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں لوگ ڈینگی کا شکار ہوچکے ہیں کوئی شہریوں کا پرسان حال نہیں ہے، ہم قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ مطالبہ کریں گے کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جو سندھ کے اسپتالوں کو دی جانے والی گرانٹ کو چیک کرے، ہم صدر آصف علی زرداری سے بھی اپیل کرتے ہیںکہ وہ اداروں میں موجود کرپٹ افسران کو نکالیں اور اسی طرح میئر کاشف شورو کو بھی پیپلزپارٹی سے نکال باہر کیا جائے، انہوں نے کہاکہ ہماری مجبوری یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد سارا اختیار پیپلزپارٹی کے پاس ہے، میئر کاشف شورو خود بھی کرپٹ ہے اور ان کی ٹیم بھی کرپٹ ہے، شہر میں پینے کا صاف پانی تک موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ سول اسپتال حیدرآباد میں مریضوں کو فرش پر رکھ کر طبی امداد دی جارہی ہے، سول اسپتال میں ڈینگی کے ٹیسٹ کی کٹس تک موجود نہیں، اسی طرح ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور ڈی جی ہیلتھ کی جانب سے ڈینگی کے مریضوں کے اعدادو شمار کے حوالے سے کوئی لسٹ جاری نہیں کی جارہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔