غزہ کھنڈرات میں امید کی علامت، ’دادی‘ جو ملبے میں خاندان اور حوصلے کو زندہ رکھے ہوئے ہے
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
جنگ سے تباہ شدہ غزہ کے کھنڈرات میں 62 سالہ ہیام مقداد اپنے ننھے پوتے پوتیوں کے ساتھ زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ بغیر جوتوں کے، گرد آلود پاؤں لیے، بچے ہر روز اپنی دادی کے ساتھ پانی کی تلاش میں ملبے کے ڈھیر عبور کرتے ہیں۔
ہیام مقداد کا کہنا ہے کہ اب بچوں کی خواہش اسکول یا پارک جانے کی نہیں بلکہ کھانا یا پانی تلاش کرنے کی ہے۔ بچوں کے خواب ختم ہو گئے ہیں، وہ اب ملبے پر کھیلتے ہیں۔
جنگ نے مقداد کا گھر اور کئی عزیز چھین لیے۔ 10 اکتوبر کو امریکی ثالثی سے جنگ بندی کے بعد وہ اپنے تباہ شدہ مکان کے ملبے پر واپس آئیں اور ایک خیمہ نصب کیا تاکہ زندگی کسی طرح چلتی رہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کی خبر سن کر ایک آنسو خوشی کا اور ایک غم کا بہا۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی معاہدہ: امریکن ایئرلائنز کا اسرائیل کے لیے فضائی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
ہیام مقداد روز صبح اپنے بچوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس نہ پیسے ہیں، نہ سبزیاں، نہ بجلی لیکن پھر بھی میں امید نہیں چھوڑتی۔
اقوام متحدہ کے مطابق 2 سالہ جنگ میں غزہ کی 75 فیصد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور 61 ملین ٹن ملبہ علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے حال ہی میں کہا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں انسانی امداد کی صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔
رات کے اندھیرے میں جب بجلی نہ ہو تو مقداد ایک موم بتی جلا کر بچوں کو سناتی ہیں کہ ایک دن امن ضرور واپس آئے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ زندگی واپس آئے، چاہے تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔ امید ابھی باقی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
62 سالہ ہیام مقداد امید کی علامت، جنگ دادی غزہ کھنڈرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امید کی علامت غزہ کھنڈرات ہیام مقداد
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔