عافیہ صدیقی کی رہائی و وطن واپسی کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ میں مقرر
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس 29 اکتوبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ میں سماعت کے لیے مقرر کر لیا گیا۔ رجسٹرار آفس نے کیس سماعت کے لیے مقرر کرنے کی کازلسٹ جاری کر دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت کے لیے چار رکنی لارجر بینچ تشکیل دے رکھا ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر چار رکنی لارجر بینچ کی سربراہی کریں گے جبکہ جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس اعظم خان اور جسٹس راجہ انعام امین منھاس بینچ میں شامل ہیں۔ اس سے قبل بینچ کے ایک رکن کی عدم دستیابی پر گزشتہ سماعت منسوخ ہوگئی تھی۔ یکم ستمبر کو جسٹس انعام امین منہاس نے لارجر بینچ کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھیج دی تھی۔ اس سے قبل یہ کیس جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے گزشتہ سماعت پر وزیراعظم اور کابینہ ارکان کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے تھے۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے ٹیکس کیسز کے لیے اسپیشل ڈویژن بینچ کا حصہ بننے کے بعد سنگل بینچ کے کیسز ٹرانسفر کر دیے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: لارجر بینچ کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔