آزادی کی آواز بلند کرنے والے کشمیر ی آج بھی بھارتی جیلوں میں قید ہیں ،امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
آزادی کی آواز بلند کرنے والے کشمیر ی آج بھی بھارتی جیلوں میں قید ہیں ،امیر مقام WhatsAppFacebookTwitter 0 27 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی وزیر برائے امور کشمیر،گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیرمقام نے کہا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں کئی دہائیوں سے ظلم وبربریت جاری ہے، آزادی کی آواز بلند کرنے والے کشمیری آج بھی بھارتی جیلوں میں قید ہیں ،ہم کشمیریوں کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے، افواج پاکستان کے کردار سے کشمیر کاز کو عالمی سطح پرنئی تقویب ملی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں حریت رہنمائوں کے ساتھ یوم سیاہ کشمیر کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریڈیو پاکستان سے ڈی چوک تک ریلی نکالی گئی جس کی کی قیادت وفاقی وزیر امیر مقا م نے کی۔
ریلی میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ ، ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی ،جموں و کشمیر لبریشن سیل، حریت رہنمائوں عبدالحمید لون ، فاروق رحمانی ،چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون اورپاکستان بیت المال کے سرپرست اعلی زمرد خان ،سرکاری افسران وزارتِ اطلاعات اور وزارتِ خارجہ کے نمائندوں اور دیگر حریت رہنما ئوں نے شرکت کی ۔ ریلی میں مختلف سیاسی و سماجی رہنما ئوں اور مختلف سکولوں و کالجوں کے طلبہ و طالبات نے بھی شرکت کی ۔شرکا نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھائیہوئے تھے، انہوں نے کشمیری عوام کے حق میں نعرے لگائے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتیہوئے کہا کہ آج 27 اکتوبر وہ دن ہے جب بھارت نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا، بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں کشمیر میں کئی دہائیوں سے بھارتی ظلم و بربریت جاری ہے، کشمیری عوام کے جذبے اور عزم کو سلام پیش کرتا ہوں،کشمیری عوام آج بھی آزادی کے لیے وہی جذبہ رکھتے ہیں جو 1947 میں تھا، لاکھوں کشمیری آزادی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں،آزادی کی آواز بلند کرنے والے ہزاروں کشمیر ی آج بھی بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت یاسین ملک کو پھانسی دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے،سات ہزار سیزیادہ کشمیری قیدی بھارتی جیلوں میں شہید ہو چکے ہیں،ایک لاکھ سیزیادہ بچے یتیم اور ہزاروں خواتین بیوہ ہو چکی ہیں،سینکڑوں کشمیری خاندانوں کے گھروں کو مسمار کیا جا چکا ہے،9 لاکھ سیزیادہ بھارتی فوجی جموں و کشمیر میں تعینات ہیں، وہاں میڈیا پر مکمل پابندی عائد ہے۔وفاقی وزیر امیرمقام نے کہا کہ کشمیر میں انٹرنیٹ بند کر کے کشمیریوں کی آواز دنیا سے چھپائی جا رہی ہے،حریت قیادت نے مشکل حالات کے باوجود مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا۔ان مظلوموں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے قربانیاں دے کر آزادی کی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے کشمیریوں کے حوصلے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حریت کانفرنس کے رہنماں کی موجودگی کشمیریوں کے عزم کی عکاس ہے،پاکستان اور دنیا بھر میں کشمیری عوام آج بھی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں،حریت قیادت کی قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں،بھارتی ظلم کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہیں،آزادی کشمیر کے لیے ہر پاکستانی کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے،آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد بدستور جاری ہے ۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ بھارت اپنی سازشوں میں ناکام ہو چکا ہے،پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی آواز بلند کی ہے،پاکستان کل بھی، آج بھی اور آئندہ بھی کشمیریوں کے ساتھ رہے گا،ہم کشمیری عوام کی آزادی کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے،پاکستان ہر فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی بات کرتا رہے گا،جب تک اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں ہوتا، جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت طاقت کے زور پر کشمیریوں کو دبا نہیں سکتا،ہم کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے،وزیرِ اعظم شہباز شریف ہر عالمی فورم پر کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرتے ہیں،نائب وزیرِ اعظم و وزیر خاجہ اسحاق ڈار نے بھی کشمیر کاز کی مثر نمائندگی کی۔ وفاقی وزیر امیرمقام نے کہا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ اور امتِ مسلمہ میں کشمیریوں کا مقف واضح طور پر اٹھایا،بھارت کے حالیہ اقدامات کے بعد دنیا نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ کشمیر کاز میں ایک نئی روح اور عزم پیدا ہو چکا ہے،افواجِ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بری، بحری اور فضائی افواج نے مادرِ وطن کے دفاع میں قابلِ فخر خدمات انجام دیں،افواجِ پاکستان کے کردار سے کشمیری کاز کو عالمی سطح پر نئی تقویت ملی،دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ خطے کے امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے،پاکستان کوء نیا مطالبہ نہیں کر رہا، صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل چاہتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کشمیر کا حقِ خود ارادیت کوئی احسان نہیں بلکہ بین الاقوامی وعدہ ہے،اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری پر کشمیر کے حوالے سے قراردادوں پر عملدرآمد کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،بدقسمتی سے بھارت نے نہ صرف قراردادوں کی خلاف ورزی کی بلکہ اپنے آئین سے بھی مکر گیا،بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35A ختم کر کے اپنی ہی آئینی ضمانت توڑ دی۔انہوں نے کہا کہ یہ بھارتی اقدام عالمی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے منافی ہے،بھارت کشمیریوں کی شناخت، زمین اور حقِ آزادی چھیننے کی کوشش کر رہا ہے،پاکستان ہر سطح پر بھارتی مظالم کو بے نقاب کرتا رہے گا،ہم کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،کشمیر کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔وفاقی وزیر نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل یقینی بنائے،انڈیا تمام مظالم کے باوجود ہمیشہ ناکام ہوا ہے ۔ معرکہ حق کے بعد بھارت کی حقیقت پوری دنیا نے دیکھ لی ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے ہمارا سر فخر بلند کردیا ہے،معرکہ حق کیوجہ سے کشمیر کے مسئلے میں نئی روح آئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ اپنی قراردادِوں پر عمل درآمد کروائے، بھارت نے کشمیر کے حوالے سے اپنے ہی قوانین کو ختم کیا اور بھارت سے لوگوں کولا کر کشمیر مین بسا رہا ہے ۔ہمارا آج بھی وہی نعرہ ہے جو بانی پاکستان کا نعرہ تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ انہو ں نے کہا کہ بھارت کے پاس وہ جذبہ نہیں جو افواج پاکستان کی قیادت اور پاکستانیوں میں ہے ۔ میں آزاد کشمیر میں مختلف مقامات پر گیا وہاں کے لوگ پاک فوج سے بہت محبت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی ڈیموگرافی بدلنے کی کوشش کی لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس ڈیموگرافک تبدیلی کو مسترد کیا ہے اور آج بھی مسترد کرتا ہے،ہم ان بھارتی کوششوں کو کبھی تسلیم نہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں،کشمیریوں کی رائے کے بغیر کوئی حل قابلِ قبول نہیں۔آج پورے ملک، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے۔امیرمقام نے کہا کہ وزارتِ خارجہ کے ذریعے بیرونِ ملک پاکستانی مشنز اور قونصل خانے بھی یوم سیاہ منا رہے ہیں،پوری دنیا کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی نوعیت کا مسئلہ ہے،مسئلہ کشمیر کے بغیر خطے میں پائیدار امن ناممکن ہے۔ہمیں فخر ہے کہ کشمیری عزم و حوصلے سے کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیں کم تر سمجھا مگر دنیا نے حقیقت دیکھ لی ہے،بھارت کو اندازہ ہونا چاہیے کہ امن کے لیے مسئلہ حل کرنا ہوگا۔امیر مقام نے افواجِ پاکستان اور فیلڈ کمانڈز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان کی کارکردگی سے کشمیر کے مقدمے کو تقویت ملی ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حوصلوں کو مثالی اور پاکستانی عوام اور افواج کے عزم کو قوم کا اثاثہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی عملی نفاذ تک پیچھے نہیں ہٹیں گے ، ہمارا مطالبہ ہے کہ کشمیر بارے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کیا ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبریرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش، اسرائیل نے مصری ٹیم کو داخلے کی اجازت دے دی پاکستان کا بھارت سے ملنے والی فضائی حدود 2 روز کیلئے بند کرنے کا فیصلہ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے لیے دریا پر بند باندھنے کا مرحلہ مکمل پمز ہسپتال میں سینئرڈاکٹر کا زیر تربیت ڈاکٹر پر بدترین تشدد الیکشن کمیشن نے نگران حکومت کی مدت میں توسیع سے متعلق آئین میں ترمیم کی سفارش کر دی پاسپورٹ بلاک ہونے کا معاملہ؛ عدالت کا اعظم سواتی کے حق میں بڑا فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو میں شرکت کیلیے سعودی عرب روانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آزادی کی آواز بلند کرنے والے انہوں نے کہا کہ بھارت متحدہ کی قراردادوں کرنے والے کشمیر امیرمقام نے کہا کشمیری عوام کے مقام نے کہا کہ وفاقی وزیر نے مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی کشمیریوں کے ہے کہ کشمیر ہے پاکستان پاکستان نے کی قیادت بھارت نے کشمیر کے بھارت کے کشمیر کا کے بغیر پیش کر چکا ہے رہا ہے کے لیے نے بھی
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔