وزیراعلیٰ کاسی پی او میں ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائیٹیشن سسٹم کاافتتاح
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-02-14
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کی ڈیجیٹلائزیشن اور گورننس میں اصلاحات کے اہم سنگِ میل کے طور پر سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائیٹیشن سسٹم (ٹریکس) کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹریکس کا آغاز محض ایک تکنیکی پیش رفت نہیں بلکہ شفافیت، جدت اور عوامی خدمات میں بہتری کے حوالے سے سندھ حکومت کے عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نئے نظام کے تحت پرانے دستی چالان کے عمل کی جگہ مکمل طور پر خودکار ای ٹکٹس کے نظام نے لے لی ہے جو جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے منسلک سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے رفتار کی زیادتی، سگنل توڑنے اور ہیلمٹ نہ پہننے جیسی خلاف ورزیوں کا خودکار اندراج کرے گا۔ یہ نظام انسانی صوابدید، ٹکراؤ اور ممکنہ جانبداری کا خاتمہ کر کے انصاف اور جوابدہی کو یقینی بناتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ ٹریکس کے ذریعے ہم ٹیکنالوجی کی طاقت کو بروئے کار لا کر شہریوں کی بہتر خدمت اور تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ صرف پولیس ڈیپارٹمنٹ کا منصوبہ نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے ایک اصلاحی قدم ہے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بڑے ٹریفک دفاتر اور تھانوں میں قائم سہولت مراکز شہریوں کو جرمانے جمع کرانے، خلاف ورزیوں کی وضاحت کرنے اور چالان کے خلاف اپیل کرنے میں معاونت فراہم کریں گے۔ یہ انقلابی اقدام صوبے میں ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے گا اور شفافیت، جدت اور عوامی فلاح کے لیے حکومتِ سندھ کے پختہ عزم کی عکاسی کرے گا۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ایس ای ایف)، دی سٹیزنز فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) اور اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ (ایس ای اینڈ ایل ڈی) کے درمیان سہ فریقی معاہدے پر عملدرآمد کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ یہ معاہدہ صوبے بھر میں معیاری تعلیم تک رسائی کے فروغ کے لیے ایس ای ایف کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔