شہید و مرحوم ملازمین کے ورثا کی فوری مدد کی جائے،عبداللطیف نظامانی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-2-12
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)یونین اپنی جدوجہد سے یوں تو مسلسل مسائل کو حل کرارہی ہے لیکن اسکے باوجود یکے بعد دیگرے ہمارے انفرادی اور اجتماعی مسائل ایسے ہیں جو ہمہ وقت پائپ لائن میں ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ حل ہورہے ہیں جن میں شہید اور مرحوم ملازمین کی بیوہ کیلئے پی ایم پیکیج کے تحت فی بیوہ لاکھوں اور اجتماعی طور پر کروڑوں کی ادائیگیاں ، ملازمین کے ٹی اے، اوور ٹائم ، ہاف ڈیز، میڈیکل ، کرایہ مکان کے بلز کی کروڑوں کی ادائیگیاں کرائی گئیں ہیں، یونین نجکاری کے خلاف مسلسل برسر پیکار ہے لیکن حکومت کاکردار مزدور دشمنی پر مبنی ہے۔ وہ محکمہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر بضد ہے جس کے خاتمے کیلئے ہم پر بھاری ذمہ داری عائد ہے اس نجکاری کی تلوار کو ہم اپنے اتحاد ، ایمانداری اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے ہی توڑ سکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے لیبر ہال حیدرآباد میں حیسکو ہیڈ کوارٹرز، جی ایس او ، کنسٹرکشن ، ایم اینڈ ٹی اور کمپنیوٹرزونز کے نمائندگان کے اہم اور ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میزبانی کے فرائض صوبائی سیکرٹری اقبال احمد خان نے اداکیے جبکہ اس موقع پر دیگر صوبائی اور زونلز نمائندگان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب میں صدر یونین نے مزید کہا کہ حیسکو میں افسران کا کردار رویہ بھی ہمارے ساتھ اچھا نہیں ہے وہ اپنی کرپشن چھپانے کیلئے ملازمین کو استعمال کررہے ہیں وہ ہمارے ناکردہ گناہوں کو بھی ہم پر تھوپ کر ہمیں بدنام اور خود سرخ رو ہورہے ہیں جبکہ ہمارا مقامی نمائندہ خاموشی تماشائی بن کر اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے جو ہمارے لیے کسی لمحہ فکر سے کم نہیں اس کے لیے ہمیں مل کر اپنے اتحاد ،یونین کی ہدایت ، دیانت کو اپنا کر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ بجلی بیور کریٹ و دیگر افسران کا نہیں ہے یہ مفادعامہ کا اہم اور قومی ادارہ ہے اس کی بقا کیلئے ہمیں اپنا کردار ادا کرتے رہنا ہوگا کیونکہ اس کی بقا میں ہی ہم سب کی بقا شامل ہے اس وقت حیسکو میں کرپشن کا بازار گرم ہے ملازمین کے بلاوجہ تبادلے اور واجبات کی ادائیگی کیلئے وصولیاں مانگی جارہی ہیں جبکہ یونین بنا کسی لالچ ملازمین کی مراعات مسلسل جاری کرارہی ہیں ہمیں ایسی کالی بھیڑوں کا احتساب کرنا ہوگا اور حق دار کو اس کا حق اس کے دروازے پر دنیا ہوگا ، شہید ومرحوم ملازمین کے بچوں کیساتھ کیساتھ عام لوگوں کیلئے نوکری کے بند دروازوں کو کھلوانا بھی ہمارے مطالبات میں سرے فہرست ہے ۔ اجلاس سے خطاب میں صوبائی سیکریٹری اقبال احمد خان نے کہا کہ ہمیں منظم ہوکر یونین کیلئے کام کرنا ہوگا آپ کا اتحاد ہی آپکی طاقت کا سر ِ چشمہ ہے جسکی بدولت ہم اپنے مسائل کو باخوبی حل کراسکتے ہیں نیز ادارے کی کامیابی و ترقی کیلئے ضروری ہے کہ ادارے سے چوری ، کرپشن کے خاتمے کیلئے مل کر جدوجہد کریں تاکہ ہم اللہ رب العزت کے سامنے بھی اور یونین میں بھی سرخ رو اور کامیاب ہوسکیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملازمین کے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔