سندھ بلڈنگ، انتظامیہ کی کارروائی میں ملی بھگت، ایک پلاٹ مسمار، دوسرا محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
ناظم آباد کے ایک ہی بلاک میںپلاٹ ای 2/6 پر توڑ پھوڑ، پلاٹ ای 9/2 کی عمارت قائم
سید ضیاء پر امتیازی سلوک کے سنگین الزامات ،گلی کی دو فٹ زمین ہڑپنے والا تعمیراتی مجرم محفوظ
(رپورٹ) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ناظم آباد نمبر 1 میں کی گئی انہدامی کارروائی نے انتظامی امتیاز اور ملی بھگت کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلاک ای کے پلاٹ نمبر 2/6 پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے عمارت کو جزوی طور پر مسمار کر دیا گیا، جبکہ محض چند قدم کے فاصلے پر واقع پلاٹ نمبر 9/2 پر ہونے والی سنگین تعمیراتی خلاف ورزیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پلاٹ نمبر 9/2 کے مالک نے نہ صرف تعمیراتی حدود سے تجاوز کیا ہے بلکہ دو فٹ چوڑی گلی کی عوامی زمین بھی اپنے مکان میں غیرقانونی طور پر شامل کر لی ہے ، جس سے راستہ تنگ ہو گیا ہے اور مقامی افراد کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر سید ضیاء مالک مکان سے ملی بھگت کے باعث کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔عوام کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صوبائی سطح پر اعلیٰ حکام اس معاملے میں فوری طور پر مداخلت کریں اور یکساں قانون کے اطلاق کو یقینی بنائیں۔ دونوں واقعات میں واضح تضاد نے عوامی اعتماد کو مجروح کیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ آیا ادارے کی کارروائیاں قانون کے بجائے مراعات اور طاقت کی بنیاد پر ہو رہی ہیں۔ایس بی سی اے کے ترجمان سے اس امتیازی سلوک پر تبصرہ کرنے کی درخواست کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ تمام شکایات کی جانچ کے بعد ہی کارروائی ہوتی ہے ۔ تاہم، انہوں نے پلاٹ 9/2 کے معاملے پر فوری طور پر کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کی۔معاملہ کی مزید تحقیقات کے لیے سندھ اینٹی کرپشن ایجنسی سے رجوع کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔