لیونل میسی کا 2026 ورلڈ کپ میں شرکت کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
ارجنٹائن کے مایہ ناز فٹبالر لیونل میسی نے آئندہ سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
38 سالہ میسی نے کہا کہ وہ اپنی فٹنس اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا،اگر میں 100 فیصد فٹ ہوا اور ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکا تو ضرور ورلڈ کپ کھیلنا چاہوں گا۔
میسی نے حال ہی میں اپنی کلب ٹیم انٹر میامی کے ساتھ معاہدے میں 2028 تک توسیع کی ہے، جس سے ان کے کھیل جاری رکھنے کے عزم کو مزید تقویت ملی ہے۔میسی اب تک ارجنٹینا کی جانب سے 195 میچز میں 114 گولز کر چکے ہیں۔ اگر وہ 2026 کا ورلڈ کپ کھیلتے ہیں تو یہ ان کے کیریئر کا چھٹا فیفا ورلڈ کپ ہوگا — جو ایک تاریخی سنگ میل ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ورلڈ کپ
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔