ای سی او ممالک ڈالر کے بجائے علاقائی کرنسی استعمال کرنے پر غور کر سکتے ہیں، ایران کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے تجویز دی ہے کہ ای سی او (اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن) کے ممالک باہمی تجارت میں ڈالر کی بجائے ایک مشترکہ علاقائی کرنسی استعمال کر سکتے ہیں۔
ای سی او کا اجلاس اس وقت ایران کے دارالحکومت تہران میں جاری ہے، اور منگل کو سائیڈ لائنز میں مسعود پیزشکیان نے تاجکستان کے وزیر داخلہ رمضان رحیم زادہ سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ علاقے کے ممالک اپنی باہمی تجارت کو ڈالر کی جکڑ بندی سے آزاد کر کے اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کر سکتے ہیں۔
ای سی او کا قیام 1985 میں ایران، ترکی اور پاکستان کی کوششوں سے ہوا تھا، اور آج اس پلیٹ فارم میں مشرقی ایشیا کی متعدد ریاستیں بھی شامل ہیں، جس سے رکن ممالک کی تعداد 10 تک پہنچ چکی ہے۔
صدر پیزشکیان نے کہا کہ خطے کے ممالک مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے باہمی تعاون کو فروغ دینے اور معاشی ترقی کے لیے مشترکہ کرنسی کا اجرا بھی ممکن ہے۔
ایران کو بین الاقوامی سطح پر کئی سالوں سے سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے، جو زیادہ تر امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کے باعث عائد کی گئی ہیں۔ صدر پیزشکیان نے کہا کہ اگر خطے کے ممالک مشترکہ طور پر اقتصادی اور ثقافتی طور پر مضبوط ہوں تو وہ پابندیوں کے باوجود اپنی ترقی کے اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیزشکیان نے کر سکتے ہیں کے ممالک
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔