عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر عدالت برہم، سیکرٹری داخلہ اور جیل حکام کو نوٹسز جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر عدالت برہم، سیکرٹری داخلہ اور جیل حکام کو نوٹسز جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس)
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر دائر توہینِ عدالت کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
عدالت عالیہ نے سیکرٹری داخلہ، جیل سپرنٹنڈنٹ اور دیگر متعلقہ حکام کو طلب کرتے ہوئے ان سے جواب مانگ لیا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے وکیل سلمان اکرم راجا کی درخواست پر سماعت کی، جو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے تحریری حکمنامے کے باوجود گزشتہ منگل کو ان کی ملاقات نہیں کروائی گئی۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایس ایچ او اعزاز نے عدالتی حکم تسلیم نہیں کیا، اس لیے عدالت ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو ان کے ساتھ بھیجے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو سلمان اکرم راجا کی جیل ملاقات کا معاملہ دیکھنے کی ہدایت کی۔ جج نے ریمارکس دیے کہ اگر سلمان اکرم راجا جیل میں ملاقات نہیں کر سکتے تو وہ ٹوئٹر ایکس کیس میں عدالت کی معاونت کیسے کریں گے؟
عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود ملاقات کیوں نہیں ہوئی؟۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے مؤقف دیا کہ وہ متعلقہ حکام کو دوبارہ آگاہ کر دیں گے۔
بعدا زاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہینِ عدالت کی درخواست پر تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ کیس کی آئندہ تاریخ تحریری حکمنامے میں جاری کی جائے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشیخ وقاص اکرم کے وارنٹ گرفتاری، عمر ایوب اور زرتاج گل کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم شیخ وقاص اکرم کے وارنٹ گرفتاری، عمر ایوب اور زرتاج گل کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم نئے تجارتی معاہدے کے بعد بھارت جلد ہی امریکا کو دوبارہ پسند کرے گا، صدر ٹرمپ مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کرگئے رضوان نے خود کپتانی چھوڑی، ان کے ہی مشورے سے ٹیم کی قیادت سنبھالی: شاہین آفریدی لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر میں بے ضابطگیاں، وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی جے یو آئی نے27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے نکال دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حکام کو
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔