سینیٹر عرفان صدیقی کی وفات پر سیاسی رہنماؤں کا اظہار افسوس، خدمات کو خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے معروف سینیٹر اور سابق مشیرِ وزیراعظم، عرفان صدیقی کی وفات پر مختلف حکومتی رہنماؤں نے اظہار افسوس کیا اور ان کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
صدر آصف علی زرداری کا تعزیتی پیغام
صدر مملکت آصف علی زرداری نے سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی پاکستان میں جمہوریت کے لیے بے پناہ خدمات ہیں اور وہ ایک عظیم شخصیت کے حامل تھے۔
صدر زرداری نے عرفان صدیقی کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی اور ان کے خاندان کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا بیان
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عرفان صدیقی کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک سنجیدہ مفکر، معلم اور اصول پسند دانشور سے محروم ہوگیا ہے۔
عرفان صدیقی نے علم، برداشت، سنجیدگی اور دلیل کو ہمیشہ اپنی تحریر اور شخصیت کا محور بنایا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ وہ مسلم لیگ ن کے ایک اہم رکن اور ہمارے قریبی ساتھی تھے، اور ان کی علمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے مرحوم کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور اللہ سے مرحوم کی روح کے لیے جنت کی دعا کی۔
نواز شریف کا عرفان صدیقی کے بارے میں بیان
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ عرفان صدیقی کا انتقال ایک عظیم سانحہ ہے، وہ میرے انتہائی مخلص اور بااعتماد بھائی تھے۔
ان کا قلم اور ان کی حریت فکر پاکستان کی سیاست اور صحافت کا اہم حصہ رہے ہیں۔ ان کی وفات سے ہم نے ایک منفرد لکھاری، عاجز مزاج اور روشن دماغ شخصیت کو کھو دیا۔
نوازشریف نے کہا کہ وہ ہمیشہ عرفان صدیقی کی یادوں اور ان کی خدمات کو دل و دماغ میں زندہ رکھیں گے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی کا تعزیتی پیغام
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے عرفان صدیقی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی صحافت اور سیاست دونوں میں اعلیٰ روایات کے علمبردار تھے، اور ان کی خدمات کو کبھی نہیں فراموش کیا جا سکتا۔
اللہ تعالٰی انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا اظہار ہمدردی
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانی سیاست ایک شاندار اور باوقار سیاستدان سے محروم ہو گئی ہے۔
عرفان صدیقی سیاست کا وقار تھے اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، مریم نواز نے سوگوار خاندان کے ساتھ اپنی بھرپور ہمدردی کا اظہار کیا۔
گورنر سندھ کا اظہار افسوس
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کی اور مرحوم کیلیے دعائے مغفرت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ مرحم مدلل مقرر، اعلیٰ تہذیبی ورثے اور وضح داری کے حامل تھے، وہ اصول پسندی، شائستگی اور باوقار سیاسی طرز عمل کی علامت تھے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل عرفان صدیقی کے انتقال پر سینیٹر عرفان صدیقی کا اظہار کرتے ہوئے اور ان کی خدمات عرفان صدیقی کی کا اظہار کیا خدمات کو شریف نے پر گہرے کی وفات کہا کہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :