افریقی ملک کانگو میں کان دھنسنے کا المناک حادثہ، 30 سے زائد افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افریقی ملک کانگو میں تانبے کی کان میں بڑا حادثہ پیش آیا ہے جہاں کان دھنسنے سے 30 سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ہفتے کے روز صوبہ لوالابا میں پیش آیا۔
صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ متاثرہ مقام سے اب تک کم از کم 32 کان کنوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ مزید افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حکام کے مطابق اس علاقے میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے باعث داخلے پر پابندی عائد تھی، لیکن غیر قانونی کان کن زبردستی اندر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کان کے ڈوبے ہوئے حصے پر ایک عارضی پل بنایا گیا تھا، جو کان کنوں کی بڑی تعداد گزرنے کی وجہ سے اچانک گر گیا اور کان دھنس گئی۔
واضح رہے کہ کانگو میں تقریباً دو لاکھ افراد غیر قانونی کانوں میں انتہائی خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں، جہاں ایسے حادثات عام ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔