گوگل کا سب سے طاقتور اے آئی ماڈل جیمنائی 3 متعارف
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوگل نے اپنا جدید ترین اور سب سے طاقتور اے آئی ماڈل جیمنائی 3 متعارف کرا دیا ہے۔
یہ نیا ماڈل اب جیمنائی ایپ اور اے آئی سرچ انجن کے انٹرفیس کے ذریعے صارفین کے لیے دستیاب ہے۔
واضح رہے کہ جیمنائی 2.5 صرف سات ماہ قبل جاری کیا گیا تھا، اور اب اس سے بھی زیادہ ترقی یافتہ لارج لینگوئج ماڈل پیش کیا گیا ہے۔
گوگل نے یہ نیا ورژن ایسے وقت میں لانچ کیا ہے جب چند روز پہلے اوپن اے آئی نے جی پی ٹی 5.
کمپنی کے بیان کے مطابق جیمنائی 3 میں منطقی سوچ اور استدلال کی صلاحیت میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل ایسی باریک تفصیلات اور گہرائی سے ردِعمل دیتا ہے جو پہلے دیکھنے میں نہیں آئیں۔
جیمنائی 3 کے بنیادی ماڈل کے ساتھ جیمنائی 3 ڈیپ تھنک بھی متعارف کرایا گیا ہے، جو تحقیق میں معاونت کے لیے تیار کیا گیا ہے اور آئندہ ہفتوں میں گوگل اے آئی الٹرا کے سبسکرائبرز کو دستیاب ہوگا۔
کمپنی کے مطابق جیمنائی ایپ کے ماہانہ صارفین کی تعداد 65 کروڑ سے بڑھ چکی ہے۔
مزید یہ کہ گوگل نے جیمنائی پر مبنی پاور کوڈنگ انٹرفیس گوگل اینٹی گریویٹی بھی پیش کیا ہے، جو ملٹی ایجنٹ کوڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے آئی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔