پاکستان اور انڈونیشیا کی انسداد دہشت گردی آپریشنز کیلئے مشترکہ فوجی مشق WhatsAppFacebookTwitter 0 19 November, 2025 سب نیوز

راولپنڈی(سب نیوز )پاکستان اور انڈونیشیا کی افواج نے انسداد دہشت گردی آپریشنز کی تربیت کے لیے مشترکہ مشق کامیابی مکمل کی اور تمام تربیتی مقاصد حاصل کرلیے گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق پاکستان۔انڈونیشیا مشترکہ فوجی مشق “شاہین اسٹرائیکٹو” کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی، دونوں ممالک کی مشترکہ فوج مشق 8 سے 19 نومبر تک جاری رہی۔

بیان میں کہا گیا کہ اس مشق کا بنیادی مقصد انسداد دہشت گردی کے آپریشنز تھے، اس مشق میں پاکستان آرمی اور انڈونیشین آرمی کی خصوصی جنگی ٹیموں نے حصہ لیا اور تمام تربیتی مقاصد کامیابی سے حاصل کر لیے گئے۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ مشق کا باضابطہ اختتام 18 نومبر کو ہوا جبکہ اختتامی تقریب میں پاکستان کی جانب سے ایک جنرل آفیسر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور انڈونیشیا کی جانب سے سینئر فوجی حکام شریک ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ مشترکہ مشق کے دوران دونوں ممالک کے دستوں نے اعلی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل قابلیت اور بھرپور ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا، تربیت میں بلٹ اپ ایریاز میں کارروائیوں، دہشت گردی مخالف تکنیکوں اور آئی ای ڈیز کے تدارک سے متعلق جدید طریقہ کار پر خصوصی توجہ دی گئی۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ مشق “شاہین اسٹرائیکII” نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دیرینہ عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے تعاون کو نئے سنگ میل تک پہنچایا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان نے بھارت کیلئے فضائی حدود بندش میں توسیع کر دی، نوٹم جاری پاکستان نے بھارت کیلئے فضائی حدود بندش میں توسیع کر دی، نوٹم جاری ایک لاکھ 56 ہزار آبادی والے ملک کوراسا نے فیفا ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کر کے نئی تاریخ رقم کر دی آئین کی حکمرانی بحال کریں ضمانت دیتا ہوں عمران خان کسی کیخلاف کارروائی نہیں کریگا، اچکزئی گلگت ،فیصل آباد:پاکستان سپر لیگ میں 2 نئی ٹیموں کے ممکنہ نام سامنے آگئے بھارت سے تجارتی روابط بڑھانے کی کوششیں، افغان وزیر تجارت نئی دہلی پہنچ گئے قومی ترانے کی بے ادبی، ملک مخالف نعرے، گومل یونیورسٹی کے متعدد طلبہ فارغ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پاکستان اور انڈونیشیا اور انڈونیشیا کی

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار