اسرائیل اور امارات کے درمیان یمن میں خفیہ سازباز
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ، عیدروس الزبیدی نے کہا تھا کہ اگر ایک آزاد جنوبی ریاست قائم ہوتی ہے تو وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فروغ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی طرح طارق صالح کے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ روابط بھی غزہ کی مدد کے دوران جاری رہے اور مغربی توجہ کا مرکز بنے۔ خصوصی رپورٹ:
ایک مغربی تحقیقی رپورٹ میں اسرائیل کی یمن میں امارات کے حمایت یافتہ گروہوں میں بڑھتی دلچسپی سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ المساء کی مکمل رپورٹ میں فریقین کے درمیان سیاسی و سکیورٹی رابطوں اور یمن کے اسٹریٹیجک علاقوں میں اسرائیل کی موجودگی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ یہ موجودگی جو خطے کی کشیدگی اور بحیرہ احمر و خلیج عدن میں اہم بحری راستوں پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔ عریبک سنٹر واشنگٹن ڈی سی کے محقق جورجیو کافرو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل نے گزشتہ برسوں کے دوران امارات کے حمایت یافتہ یمنی گروہوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طارق صالح کی فورسز اور جنوبی عبوری کونسل کے رہنما تل ابیب کے ساتھ رابطے قائم کرنے کی کوشش میں ہیں۔
جنوبی عبوری کونسل اور طارق صالح کا مؤقف:
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ، عیدروس الزبیدی نے کہا تھا کہ اگر ایک آزاد جنوبی ریاست قائم ہوتی ہے تو وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فروغ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی طرح طارق صالح کے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ روابط بھی غزہ کی مدد کے دوران جاری رہے اور مغربی توجہ کا مرکز بنے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور امارات کے درمیان گزشتہ چند سالوں میں یمن کے جزیروں اور سقطری کے جزائر میں فوجی اور جاسوسی اڈے قائم کرنے میں تعاون بڑھایا گیا ہے۔ امارات، امریکہ، بحرین اور اسرائیل کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں نے بحیرۂ عرب اور خلیجِ عدن میں بحری سرگرمیوں کی نگرانی کے حوالے سے تل ابیب کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔
اسرائیل کے اہداف اور داخلی خطرات:
جنوبی عبوری کونسل اسرائیل کے ساتھ براہِ راست تعلق قائم کرنے میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتی ہے تاکہ جنوبی یمن کی علیحدگی کے راستے میں اپنی بین الاقوامی شناخت کو مضبوط بنا سکے۔ لیکن یہ راستہ اندرونی سطح پر شدید خطرات رکھتا ہے، کیونکہ یمنی عوام مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے حساس ہیں، اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی تعلق پر سخت عوامی ردِعمل سامنے آ سکتا ہے۔
علاقائی اثرات اور صنعا کا کردار:
امارات کے زیرِ اثر یمنی علاقوں میں اسرائیلی اثر و رسوخ میں اضافہ علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور یمن کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، یہ صورتحال صنعاء کی عوامی اور عسکری حمایت میں اضآفے کا سبب بنے گی۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں یمنی مزاحمت کے توازنِ قوت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنوبی عبوری کونسل اسرائیل کے ساتھ اسرائیل اور طارق صالح امارات کے
پڑھیں:
دُنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
جنوبی کوریا کی سیئول ہائیکورٹ نے ملک کے بڑے صنعتی و کاروباری ادارے ایس کے گروپ کے چیئرمین چے تے وون کو اپنی سابقہ اہلیہ روہ سوہ یونگ کو 944 ارب جنوبی کوریائی وون (تقریباً 644 ملین امریکی ڈالر) ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس مقدمے کو ‘ صدی کی طلاق’ قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالتی فیصلہ ابھی حتمی نہیں اور اس کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔ یہ رقم اس سے پہلے سنائے گئے 1.38 کھرب وون کے فیصلے سے کم ہے، جو 2024 میں عدالت نے سابقہ اہلیہ کے حق میں دیا تھا۔
چے تے وون نے عوام سے معذرت کر لیفیصلے کے بعد چیئرمین چے تے وون کے وکلا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ طلاق کی کارروائی کے باعث عوام میں پیدا ہونے والی تشویش پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی کوریا میں ہر شہری کی عمر اچانک ایک یا 2 برس کم کیسے ہوگئی؟
وکلا کے مطابق ‘چیئرمین چے تے وون اس بات پر گہرا افسوس کرتے ہیں کہ طلاق کی کارروائی نے بہت سے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کیا۔ عدالتی فیصلے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل اور ردعمل سامنے لایا جائے گا۔
3 دہائیوں پر محیط شادی کیسے ٹوٹی؟چے تے وون اور روہ سوہ یونگ کی شادی 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک قائم رہی۔ یہ رشتہ اس وقت شدید بحران کا شکار ہوا جب روہ سوہ یونگ کو معلوم ہوا کہ ان کے شوہر نے ایک دوسری خاتون سے تعلقات کے نتیجے میں ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔
روہ سوہ یونگ جنوبی کوریا کے سابق صدر روہ تے وو کی صاحبزادی ہیں، جس کے باعث یہ مقدمہ ابتدا ہی سے ملکی میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
عدالت نے کیا قرار دیا؟ابتدائی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ سابق صدر روہ تے وو نے اپنے داماد چے تے وون کو 30 ارب وون فراہم کیے تھے، جنہیں خاندانی کاروبار کی ترقی میں استعمال کیا گیا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے چے تے وون کو اپنی سابقہ اہلیہ کو 1.38 کھرب وون ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
مزید پڑھیں:’چین نے ہمارے ساتھ سخت رویہ اپنایا‘ ٹرمپ نے چینی درآمدات پر 155 فیصد ٹیرف عائد کردیا
بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق صدر کے مبینہ خفیہ فنڈ اور غیر ظاہر شدہ رقوم کو قانونی طور پر ازدواجی اثاثے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی قانونی جائزے کے بعد ہائی کورٹ نے نظرثانی کرتے ہوئے ادائیگی کی رقم کم کر کے 944 ارب وون مقرر کی۔
ایس کے گروپ اور عالمی کاروباری اہمیتچے تے وون جنوبی کوریا کے دوسرے بڑے کاروباری گروپ ایس کے گروپ کے چیئرمین ہیں، جبکہ گروپ کی ذیلی کمپنی ایس کے ہائنکس دنیا کی نمایاں سیمی کنڈکٹر کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
ایس کے ہائنکس مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے استعمال ہونے والی جدید میموری چپس تیار کرتی ہے اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اینویڈیا سمیت عالمی اداروں کو سپلائی فراہم کرتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ ہوا اور اس نے جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ قائم کیے۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو شمالی کوریا میں ڈرون بھیجنے پر 30 سال قید کی سزا
رپورٹس کے مطابق، کمپنی نے امریکی مارکیٹ میں اپنی لسٹنگ کے ذریعے 26.5 ارب ڈالر جمع کیے، جسے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں کسی نمایاں غیر ملکی کمپنی کی تاریخ کی بڑی پیشکشوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
یہ مقدمہ کئی برسوں سے جنوبی کوریا کی عدالتی تاریخ کے اہم ترین خاندانی تنازعات میں شامل ہے۔ ایک جانب یہ ملک کے طاقتور کاروباری خاندان سے متعلق ہے، جبکہ دوسری جانب سابق صدر کے خاندان کی شمولیت نے اسے غیر معمولی اہمیت دی۔ اسی وجہ سے مقامی میڈیا نے اسے ‘طلاق کی صدی’ کا نام دیا۔
تازہ عدالتی فیصلہ اگرچہ سابق حکم کے مقابلے میں کم مالیت کا ہے، تاہم 944 ارب وون کی رقم اب بھی دنیا کے مہنگے ترین طلاقی تصفیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ چونکہ فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے، اس لیے امکان ہے کہ یہ قانونی جنگ ابھی مزید جاری رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تقریباً 644 ملین امریکی ڈالر جنوبی کوریا چے تے وون روہ سوہ یونگ سپریم کورٹ۔ سیئول ہائیکورٹ صاحبزادی صدر روہ تے وو عدالت