شردھا کپور کے بھائی سدھانت کپور 252 کروڑ کے ڈرگ کیس میں طلب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اداکارہ شردھا کپور کے بھائی اور معروف اداکار سدھانت کپور کو ممبئی پولیس کی اینٹی نارکوٹکس سیل (ANC) نے 252 کروڑ روپے کے مبینہ ڈرگ کیس میں طلب کر لیا۔
کیس کا تعلق ایک ایسے ڈرگ سنڈیکیٹ سے جوڑا جا رہا ہے جسے داؤد ابراہیم کے نیٹ ورک سے منسلک بتایا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت نے فلم انڈسٹری میں ہلچل مچا دی ہے اور کئی نامور شخصیات اب تفتیش کی زد میں آ گئی ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق سدھانت کپور کو 25 نومبر کو تحقیقات کے لیے طلب کیا گیا ہےجبکہ ان کے مبینہ تعلقات اُن ڈرگ پارٹیوں سے جوڑے جا رہے ہیں جو مبینہ طور پر ہائی پروفائل شخصیات کے لیے منعقد کی جاتی تھیں۔ ایک گرفتار ڈرگ اسمگلر نے تفتیش میں انکشاف کیا کہ وہ ایسی لگژری پارٹیاں ارینج کرتا رہا ہے جن میں متعدد فلمی شخصیات بھی شریک ہوتی تھیں۔
سدھانت کپور، جو شوٹ آؤٹ ایٹ وڈالا اور اگلی جیسی فلموں میں اداکاری کر چکے ہیں، اب تیزی سے پھیلتی ہوئی تفتیش کے مرکز میں ہیں۔ یہ تحقیقات فروری 2024 میں ایک معمولی ڈرگ برآمدگی سے شروع ہوئیں لیکن بعدازاں ایک بڑے جرائم پیشہ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔
تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد کے مطابق یہ سنڈیکیٹ مبینہ طور پر سلیم ڈولا نامی شخص چلا رہا تھا، جو داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی بتایا جاتا ہے۔ کیس میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب دبئی میں محمد سلیم محمد سہیل شیخ کو گرفتار کیا گیا۔ شیخ اس کیس میں 15ویں گرفتاری ہے اور ڈرگ ڈسٹری بیوشن چین کا بنیادی رکن سمجھا جا رہا ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق شیخ نے دورانِ انٹروگیشن بتایا کہ یہ پارٹیاں ڈرگ پیسے سے فنڈ کی جاتی تھیں اور ان کا مقصد ڈرگ نیٹ ورک کو وسعت دینا تھا۔ وہ ڈرگ سپلائرز کی بھرتی، منشیات کی خریداری اور ہائی پروفائل کلائنٹس تک ڈائریکٹ سپلائی کا ذمہ دار بھی تھا۔
تحقیقات کے دائرے میں مزید بولی ووڈ شخصیات کے آنے کا امکان ہے۔ ممبئی کرائم برانچ اب ای ڈی کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ کے پہلوؤں، مالی لین دین اور نیٹ ورک کے روابط کی چھان بین کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق جن افراد کے نام سامنے آئے ہیں ان کے تفصیلی بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔
جوں جوں کیس آگے بڑھ رہا ہے، سنڈیکیٹ کے مزید پرت کھلنے کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے اثرات بولی ووڈ سمیت کئی حلقوں تک دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔
سدھانت کپور اس وقت کڑی نگرانی میں ہیں جبکہ تفتیش کار آئندہ مرحلے کی پوچھ گچھ کی تیاری میں مصروف ہیں جو ممکنہ طور پر 252 کروڑ روپے کے اس بڑے کیس میں اگلی بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سدھانت کپور کے مطابق کیس میں نیٹ ورک رہا ہے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔