انسانی جسم میں شریانوں کی صفائی کرنےکیلیے ننھامنا روبوٹ ایجاد
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماہرین کے مطابق انسانی جسم میں 360 سے زیادہ شریانیں، رگیں اور وریدیں موجود ہوتی ہیں۔ اگر خراب طرزِ زندگی کے باعث ان نالیوں میں چربی یا چکنائی جم جائے تو خون کی روانی سست پڑ جاتی ہے، جس سے ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
عام طور پر اس چکنائی کو صاف کرنے کے لیے مہنگے اور پیچیدہ آپریشن کیے جاتے ہیں، مگر اب سوئٹزرلینڈ کی ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا مائیکرو روبوٹ تیار کر لیا ہے جو 2 ملی میٹر سے بھی چھوٹا ہے اور انتہائی باریک شریانوں میں بھی باآسانی حرکت کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر اس روبوٹ میں دوا بھر کر اسے رگوں میں جمی ہوئی چکنائی تک لے جائیں گے تاکہ وہ فوری طور پر تحلیل ہو سکے، اس طرح مریض کو مہنگے آپریشن کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اس مائیکرو روبوٹ کا ڈھانچہ فولادی نینو ذرّات سے تیار کیا گیا ہے، جس سے ڈاکٹر مقناطیسی آلات کی مدد سے اسے جسم کے اندر دور سے کنٹرول کرتے ہوئے مطلوبہ مقام تک پہنچا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔