مین ہول میں بچہ گرنے کا واقعہ، سٹی کونسل میں میئر کراچی کیخلاف نعرے بازی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
فوٹو: شعیب احمد / جنگ
کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد ایک کلو میٹر دور نالے سے مل گئی، واقعے کے خلاف سندھ اسمبلی اور سٹی کونسل میں اپوزيشن نے احتجاج کیا۔
کراچی سٹی کونسل میں احتجاج کے دوران میئرکراچی مرتضیٰ وہاب کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔
سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر طحہ احمد نے کہا کہ یہ واقعات مسلسل ہورہے ہیں، کوئی روک تھام نہیں ہورہی، اگر مشینری والدین کو منگوانی پڑ رہی ہے تو وہاں کے نمائندے کیا کر رہے ہیں؟
شرجیل میمن نے کہا کہ یہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں، اگر افسران اپنا کام صحیح نہیں کرتے تو پھر ہم انکو قانون کے دائرے میں سخت سے سخت سزا دیں گے،
شرجیل میمن نے جواب میں کہا کہ واقعے کے پندرہ منٹ سےآدھے گھنٹے میں ریسکیو کا کام شروع کر دیا گیا تھا، یہ واقعہ مجرمانہ غفلت ہے، افسران کو اپنے دفاتر سے نکل کر چیک کرنا چاہیے کہ کہاں کیا کمی ہے، واقعے کے ذمہ داروں کا تعین ضرور ہوگا۔
دوسری جانب امیر جماعت سلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کا نظام بھیڑیوں کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے کہا کہ اس واقعےکا بڑا المیہ یہ ہے کہ میئر کراچی کے اے سی ڈی سی نے ٹاؤن چئیرمین کے فون کا جواب تک نہیں دیا، متعلقہ اداروں نے مشینری بھی بروقت فراہم نہیں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔