میئر کراچی: نیپا واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا، ذمہ داری جماعت اسلامی پر ڈالوں تو لوگ ناراض ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ نیپا کے قریب جس مین ہول میں بچہ گرا، وہ سیوریج نہیں بلکہ برساتی نالہ تھا۔
انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچے کے والدین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، مگر بدقسمتی سے اس واقعے کو رات ہی سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر رہے ہیں تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔ ایم ڈی واٹر کارپوریشن کو تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے کہ کس نے مشینری سے متعلق پابندی لگائی اور اگر کوئی ذمہ دار ثابت ہوا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
Webان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں 88 ہزار مین ہول کورز لگائے گئے ہیں اور شہر کے وسط میں ڈپارٹمنٹل اسٹور اور اسپتال کے پاس مین ہول کے کھلے ہونے کی بھی انکوائری کی جائے گی۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ واقعے پر سیاست کرنا افسوسناک ہے۔ واٹر کارپوریشن کو اس متعلق کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔ وہ متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم اشتعال انگیز بیانات مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برساتی نالے کی ذمہ داری ٹاؤن اور کے ایم سی دونوں کی ہے، اور معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات ہوں گی۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اس علاقے کے ٹاؤن چیئرمین کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، اور اگر وہ ذمہ داری جماعت اسلامی پر ڈالیں تو لوگ ناراض ہوں گے، مگر وہ منافقت کو بے نقاب کرنے سے نہیں ہٹیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔