وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
وفاقی حکومت نے 9 مئی کے مقدمات کے سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چند اہم رہنماؤں کے بیرون ممالک سفر پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس پیش رفت کے بعد متعلقہ سیاسی رہنماؤں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس فہرست میں عمران خان، شاہ محمود قریشی، عمر ایوب، فواد چوہدری، شبلی فراز، علی امین گنڈا پور، شہریار آفریدی، عثمان ڈار، شیریں مزاری، زرتاج گل، مسرت چیمہ، کنول شوزب، شیخ رشید اور میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کے نام شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ راجا بشارت، واثق قیوم عباسی اور دیگر شخصیات پر بھی بیرون ملک جانے کی پابندی عائد کی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے فہرست وفاقی حکومت کو بھیجی گئی تھی، جس کے بعد 9 مئی کے فسادات کے تناظر میں ان رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ای سی ایل کمیٹی نے سفارشات وفاقی حکومت کو منظوری کے لیے ارسال کی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وفاقی حکومت رہنماو ں کے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔