لاہور میں چھٹی کے دن دودھ اور گوشت کی بڑی مقدار تلف
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (آن لائن) چھٹی کے دن لاہور میں آنے والے دودھ اور گوشت کی چیکنگ کے دوران ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید کی ٹیموں نے سخت کریک ڈاؤن کیا۔ علی الصبح لاہور کے داخلی راستوں اور ٹولنٹن مارکیٹ میں سپلائرز اور مارکیٹس کی تفصیلی چیکنگ کی گئی۔اس کارروائی کے دوران ایک لاکھ 50 ہزار لیٹر دودھ، 81 ہزار 500 کلو گوشت، اور 2 ہزار 185 کلو بیمار یا مردہ مرغیاں تلف کی گئیں۔ 25 دودھ بردار گاڑیاں، 20 میٹ گودام اور مختلف سپلائرز کی چیکنگ کی گئی۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید نے بتایا کہ 8 ملک اینڈ میٹ سپلائرز کو بھاری جرمانے عاید کیے گئے۔ تلف شدہ مرغیاں نزلہ، کم وزن اور مختلف امراض میں مبتلا پائی گئی تھیں۔ بیمار اور کم وزن مرغیاں ٹولنٹن مارکیٹ کی دکانوں پر سپلائی کی جانے والی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔