سابق برطانوی وزیرعظم کا نام غزہ امن کونسل سے نکال دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: اسلامی ملکوں کے اعتراض کے بعد سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا نام غزہ امن کونسل سے نکال دیا گیا۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانوی اخبارکی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو عرب اور مسلم ممالک کے اعتراضات پر ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے میں غزہ امن کونسل سے نکال دیا گیا ہے۔تاہم رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہرکیا گیا ہےکہ ٹونی بلیئر غزہ میں اب بھی کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
خیال رہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں غزہ میں امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا نام غزہ امن کونسل کے لیے تجویز کیا تھا۔
یاد رہےکہ برطانوی وزیراعظم کی حیثیت سے ٹونی بلیئر نے 2003 میں عراق پر حملے کی بھرپور حمایت کی تھی اور امریکا کا ساتھ دینے کے لیے برطانوی فوجیوں کو بھی عراق بھیجا تھا۔یہ جنگ ان دعووں کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی کہ عراقی صدر صدام حسین کی قیادت میں عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں تاہم بعد میں یہ سب دعوے غلط ثابت ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غزہ امن کونسل ٹونی بلیئر
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔