عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مسلسل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، وزیراعلیٰ پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ناحق قید اور مسلسل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو قید میں سردیوں کا سامان بھی فراہم نہیں کیا جا رہا، عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن چلانا اور بے عزتی کرنا شرمناک اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اس ناروا اور غیر انسانی سلوک کی بھرپور مذمت کرتی ہے، این ایف سی اجلاس میں صوبائی حقوق کے لیے سب کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو خوش آئند ہے، سب کمیٹی کی سربراہی صوبائی مشیر خزانہ کریں گے، واجبات کے حوالے سے سفارشات وفاق کو پیش کی جائیں گی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے لیے تمام سیاسی و قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے، وزیراعلیٰ نے این ایچ پی اور این ایف سی بقایاجات پر محکمہ خزانہ کو ہر ہفتے وفاق کو خط ارسال کرنے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا، سات سال میں صرف 168 ارب دیے گئے، 532 ارب اب بھی بقایا ہیں، تمام محکمے اپنے بقایاجات کے حوالے سے وفاق کو ہفتہ وار خط ارسال کریں تاکہ ساری چیزیں ریکارڈ پر ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔