UrduPoint:
2026-07-24@15:16:39 GMT

اے ایف ڈی کی پارٹی کانفرنس، مخالفین کے مظاہرے

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT

اے ایف ڈی کی پارٹی کانفرنس، مخالفین کے مظاہرے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 جنوری 2025ء) جرمن چانسلر اولاف شولس کی سہ جماعتی اتحادی حکومت کے خاتمے کے بعد جرمنی میں 23 فروری کو پارلیمانی انتخابات ہونا ہیں۔ اس سلسلے میں جرمنی کی تین بڑی سیاسی جماعتیں آج ہفتہ 11 جنوری کو اپنے اجتماعات منعقد کر رہی ہیں جس میں ملک بھر میں ہونے والے ان انتخابات کے لیے امیدواروں کے ناموں کو بھی حتمی شکل دی جائے گی۔

جرمنی: اے ایف ڈی کی تعریف کرنے پر ایلون مسک پر نکتہ چینی

اقتصادیات، جرمن انتخابات میں سب سے بڑا مدعا

جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کے خلاف ڈریسڈن میں ترتیب دیے گئے مظاہروں کے منتظمین کا اندازہ ہے کہ آج ہفتے کے روز اس میں 10 ہزار سے زائد افراد شرکت کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے 70 شہروں سے 100 سے زائد بسوں میں لوگ اس مقصد کے لیے ڈریسڈن پہنچ رہے ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق مظاہرین کے ایک چھوٹے گروپ نے ڈریسڈن کے قریب ہائی وے کی مشرق کی طرف جانے والی لین کو بلاک کر رکھا ہے۔

ان مظاہرین کی طرف سے اے ایف ڈی کی ریلی کے مقام کی طرف جانے والے راستوں کو بھی بلاک کرنے کا منصوبہ تھا۔

برلن سے قریب 130 کلومیٹر جنوب میں واقع شہر ڈریسڈن کے حکام نے کسی تشدد کے خدشے کے پیش نظر شہر کے اندر مختلف کنٹرول زون قائم کیے ہیں۔

پولیس کے مطابق اے ایف ڈی کے حامیوں کو ان کے لیے مختص مقامات کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔

ڈی پی اے کے مطابق شہری حدود میں پولیس کا ایک ہیلی کاپٹر بھی اس دوران فضا میں موجود رہے گا، جبکہ دیگر قریبی ریاستوں کی مدد سے صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے ڈرونز کا بھی استعمال کیا جائے گا۔

اے ایف ڈی کی طرف سے اپنی اس دو روزہ کانفرنس میں پارٹی کا الیکشن منشور بھی منظور کیا جائے گا اور اپنی پارٹی لیڈر ایلِس وائیڈل کے نام کا چانسلر کے عہدے کے لیے امیدوار کے طور پر اعلان کیا جائے گا۔

سی ڈی یو کا اے ایف ڈی سے اتحاد نہ کرنے کا اعلان

دوسری طرف سابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو کے موجودہ سربراہ اور چانسلر بننے کے امیدوار فریڈرش میرس نے اس امکان کو سختی سے رد کر دیا ہے کہ ان کی جماعت اے ایف ڈی سے سیاسی اتحاد قائم کرے گی۔

یہ بات انہوں نے جمعہ 10 جنوری کی شام جرمن براڈ کاسٹر اے آر ڈی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

میرس کا کہنا تھا، ''مجھے یہ بات ریکارڈ کے لیے دہرانے دیں، میری لیڈرشپ میں جرمنی کے اندر سی ڈی یو کا (اے ایف ڈی سے) کوئی تعاون نہیں ہو گا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجوہات واضح ہیں۔ میرس کے بقول، ''ہم ایک ایسی پارٹی کے ساتھ کام نہیں کریں گے، جو غیر ملکیوں کے خلاف ہے، سامیت مخالف ہے اور جس میں دائیں بازو کے شدت پسند لوگ شامل ہیں۔ ایک ایسی جماعت جو روس کے ساتھ دوستی دکھاتی ہے اور نیٹو اور یورپی یونین کو چھوڑنا چاہتی ہے۔‘‘

جرمنی کی مشرقی ریاست سیکسنی اے ایف ڈی کا ایک مضبوط گڑھ ہے اور گزشتہ انتخابات میں اس جماعت نے وہاں سے 26.

6 فیصد ووٹ حاصل کیے اور اس ریاست کی سب سے مقبول جماعت بن گئی تھی۔

ا ب ا/ک م (ڈی پی اے)

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے کی طرف

پڑھیں:

نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر

ویب ڈیسک : امیر العظیم کے انتقال کے بعد امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے نذیر احمد جنجوعہ کو قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر کردیا۔

 نذیر احمد جنجوعہ نے قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان کا حلف اٹھا لیا۔

 اس سے قبل نذیر احمد جنجوعہ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل تھے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب کشمیر کے وارث آگئے ہیں، مریم نواز
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے