وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب 18ویں ایشین فنانشل فورم میں شرکت کیلئے ہانگ کانگ روانہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 جنوری2025ء) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب 18ویں ایشین فنانشل فورم میں شرکت کے لیے ہانگ کانگ روانہ ہو گئے ہیں۔ وزارت خزانہ کی جانب سے ہفتہ کو جاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ اپنے دورہ ہانگ کانگ کے دوران اہم ایشیائی مالیاتی اداروں کے سربراہان اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے،وزیر خزانہ ایشیائی مالیاتی فورم سے خطاب کے دوران ملک کے معاشی منظر نامے کو واضح کریں گے۔
وزیر خزانہ دورہ کے دوران مقای و چینی حکام، فنانشل سیکٹر کے ماہرین، پروفیشنلز ، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات سےبھی ملاقاتیں کریں گے۔ وزیر خزانہ چائنا انٹرنیشنل کیپیٹل کارپوریشن لمیٹڈ ،چائنا نیو انرجی سکائیرل لمیٹڈ اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک کے سربراہان سے ملیں گے اور عوامی جموریہ چین کے ہانک کانگ سپیشل ایڈمنسٹریٹو ریجن کے چیف ایگزیکٹو جان کے سی لی سے بھی ملاقات کریں گے۔(جاری ہے)
مزید برآں وزیر خزانہ بلوم برگ، نکی ایشیا سمیت دیگر منتخب بین الاقوامی اور ایشیائی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو انٹرویوز دیں گے اور اپنے دورہ کے دوران ہانگ کانگ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے سرکردہ ارکان اور راہنماؤں سے بھی ملیں گے۔ واضح رہے کہ ایشیائی مالیاتی فورم ایشیائی نقطہ نظر سے عالمی معیشت پر اثر انداز ہونے والے اہم مسائل کے حل اور بصیرت کے اشتراک میں ایشیاکی مالیات، کاروبار اور بااثر حکومتی رہنماؤں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کا کام سر انجام دیتا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہانگ کانگ کے دوران کریں گے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔