لاہور بارایسوسی ایشن انتخابات کے دوران فائرنگ کرنے کا مقدمہ درج، متعدد وکلا زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
لاہور:
پنجاب پولیس نے لاہوربارایسوسی ایشن انتخابات کے دوران فائرنگ کرنے کا مقدمہ درج کرکے متعدد وکلا کو حراست میں لے لیا۔
پولیس زرائع کے مطابق زیرحراست متعددوکلا کو شورٹی بانڈز پر رہا کردیا گیا، فائرنگ کرنے کا مقدمہ ایس ایچ او مزنگ رائے آصف جبار کی مدعیت میں درج کیا گیاْ۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق وکلا اور انکے ساتھیوں نے جیت کی خوشی میں اندھا دھند فائرنگ کی، مقدمہ میں سلیم، جنید، خضرحیات، شہریار، زاہد، رضوان، سفیان سمیت 8 ملزمان کو نامزد کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان سے پسٹل، ممنوعہ بور کلاشنکوف اور گولیاں برآمد ہوئیں، موبائل فوٹجیز کی مدد سےدیگر ملزمان کی گرفتاری کے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔