حساس ڈیٹا اور سائبر حملوں سے بچانے کے نیٹ ورکس متاثر ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
حساس ڈیٹا اور سائبر حملوں سے بچانے کے نیٹ ورکس متاثر ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے، نجی کمپنی کے ڈی این ایس میں نقص کی نشاندہی کرلی گئی، کابینہ ڈویژن کے تحت نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم آف پاکستان نے ایڈوائزری جاری کردی۔
ایڈوائزری کے مطابق نقص کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جس کے باعث ڈیوائسز کام کرنا بند کر سکتی ہیں، ٹریفک انسپیکشن اور فائر وال کی صلاحیتوں اور ڈی این ایس میں خلل آسکتا ہے، نقص سے نیٹ ورکس سیکیورٹی کے لیےکمپنی پر انحصار کرنے والی متاثرہ تنظیموں کےلیے شدید خطرات بن سکتے ہیں۔
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس کی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ نقص سے انٹرپرائز اور کلاؤڈ ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں، آپریشنز میں خلل، حساس ڈیٹا اور سائبر حملوں سے بچانے کے نیٹ ورکس متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق متعلقہ کمپنی نے اس مسئلے پر فوری توجہ دینے کیلئے اپڈیٹس جاری کی ہیں، جس میں کہا گیا ہےکہ آلات، نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کےلیے فوری توجہ اور حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
ایڈوائزری میں نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے کمپنی کے سافٹ وئیر کو اپڈیٹ کرنےکی سفارش کی ہے۔
اسی طرح ایڈوائزری میں مشکوک سرگرمیوں کا پتہ لگانے اور غیر مجاز رسائی کی کوششوں کو روکنے کیلئے مانیٹرنگ جبکہ ڈی این ایس سیکیورٹی کے لیے قابل اعتماد ذرائع کے استعمال اور باقاعدگی سے لاگز کا آڈٹ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نیٹ ورکس
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔