خیبرپختونخوا:صوبائی حکومت نے نگراں دور میں بھرتی سرکاری ملازمین کو ہٹانے کیلئے قانون تیار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
پشاور:صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا میں نگراں دور میں بھرتی سرکاری ملازمین کو ہٹانے کیلئے قانون تیار کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا ملازمین کو سروسز سے ہٹانے کا بل 2025 جلد اسمبلی سے پاس کرایا جائے گا،مسودے کے مطابق بل کے تحت نگراں حکومت کے دوران بھرتی ملازمین کو نوکری سے ہٹانا ہے، نگراں حکومت کے دوران غیر قانونی طور پر بھرتیاں کی گئی تھیں۔
اس حوالے سے متعلقہ ادارے بل پاس ہونے پر نوٹیفکیشن جاری کریں گے، نوٹیفکیشن کے تحت غیرقانونی بھرتی ہونے والے ملازمین کو ہٹایا جائے گا، کوئی قانونی پیچیدگی آڑے آئی تو کمیٹی میں جائزہ لیا جائے گا۔
مسودہ کے مطابق سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، کمیٹی میں ایڈووکیٹ جنرل سمیت محکمہ خزانہ، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے سیکرٹری شامل ہونگے، کمیٹی کا فیصلہ تمام متعلقہ افراد پر لاگو ہوگا۔ خیال رہےکہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخواہ میں نگراں دور حکومت کے دوران متعدد محکموں میں غیر قانونی 16 ہزار بھرتیاں ہوئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملازمین کو حکومت کے کے مطابق
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔