قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے خواتین اسٹاف کو مغرب سے قبل گھر جانے کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
قومی اسمبلی--- فائل فوٹو
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے خواتین اسٹاف کو مغرب سے قبل گھر جانے کی اجازت دے دی۔
اس حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ خواتین کو پیشہ ورانہ اور گھریلو ذمے داریوں میں توازن کا موقع دیا جا رہا ہے، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا خواتین اسٹاف اب دورانِ سیشن مغرب سےقبل گھر جا سکتا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمے داری ہے، ان کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
اس حوالے سے سیکریٹری جنرل ویمن پارلیمانی کاکس نے کہا ہے کہ اسپیکر کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہے، خواتین کے حقوق کے لیے پارلیمنٹ اقدامات کر رہی ہے۔
سیاسی عدم استحکام ختم ہونا چاہیے، معاملات کو حل کرنا چاہتے ہیں:اسپیکر قومی اسمبلی
کنوینر کاکس چائلڈ رائٹس نکہت شکیل نے کہا کہ خواتین کو ملازمت اور خاندان کے توازن میں سہولت ملے گی، اسپیکر کا یہ اقدام بچوں کی پرورش پر مثبت اثر ڈالے گا۔
کنٹری ایمبیسیڈر ویمن پولیٹیکل لیڈرز شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ یہ اقدام دیگر اداروں کے لیے بھی قابلِ تقلید ہے، خواتین کے لیےحکومتی اور نجی اداروں میں اس کا نفاذ ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی نے کہا
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔