امریکا: میکسیکو کی سرحد پر اضافی فورس تعینات کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر میکسیکو کی سرحد پر اضافی ہیلی کاپٹر اور جاسوسی فورس تعینات کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ 1500 اضافی فوجیوں کو میکسیکو بارڈرپربھیجا جارہا ہے جب کہ متعلقہ عملے کے ساتھ ہیلی کاپٹرز اور انٹیلی جنس تجزیہ کار بھی روانہ کیے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سرحد پر گراؤنڈ فورسز کی تعداد میں 60 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ پینٹاگون سیکرٹری رابرٹ سیلس نے کہا کہ کیلی فورنیا اور ٹیکساس سے 5 ہزار غیر قانونی تارکین کی بے دخلی کے لیے پینٹاگون طیارے فراہم کرے گا ،جب کہ پینٹاگون میکسیکو بارڈر کے ساتھ باڑ لگانے میں بھی حصہ لے گا۔ دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدرٹرمپ اضافی 10ہزار فوج کو میکسیکوکی فوج پر بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈونلڈٹرمپ نے دوسری بار امریکی صدر کا حلف اٹھانے کے بعد سابق صدر جوبائیڈن کے کئی اقدامات کو منسوخ کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔