مذاکراتی کمیٹیوں کا چوتھا اجلاس طلب،پی ٹی آئی کا شرکت سے انکار،جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ جسارت ،خبر ایجنسیاں) مذاکراتی کمیٹیوں کا چوتھااجلاس طلب ، پی ٹی آئی کاشرکت سے انکار، جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس 28 جنوری 2025 کو طلب کرلیا ہے تاہم پی ٹی آئی نے شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے۔اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کریں گے جو دن پونے 12 بجے پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم پانچ میں اِن کیمرہ ہوگا۔مذاکراتی کمیٹی اجلاس سے متعلق پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اب کسی اور میٹنگ میں شریک نہیں ہوگی، لمبی شارج شیٹ کے باوجود بانی نے مذاکرات کا کہا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے تحریری مطالبات مانگے وہ بھی دے دیے، حکومت کمیشن کا اعلان کرے تو ہم فیصلے پر نظرثانی کر لیتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ ہم نے انہیں موقع دیا مگر انہوں نے کچھ نہیں کیا، یہ خود اپنی چائے پی لیں لیکن ہم نہیں جائیں گے۔قبل ازیںاسلام آباد میں پارلیمنٹ کی پریس گیلری میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، شبلی فراز اور علی محمد خان کے ساتھ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 2 کمیشن بنانے ضروری ہیں، حامد رضا کے گھر پر حملہ ہوا، بانی سے ملنے نہیں دیا گیا، بانی نے کہا نیوٹرل امپائر ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت دونوں کمیشن بنانے کا اعلان کردیتی تو مذاکرات میں بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں، کل بھی حکومت نے کمیشنز بنانے کا اعلان نہیں کیا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی بحالی پر دوبارہ غور کرنے کے لیے حکومت کمیشن کا اعلان کرے، ابھی کس چیز نے روکا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کمیشن کے اعلان کے لیے عمران خان نے 7 دن دیے جو کافی تھے لیکن پیش رفت نہ ہونے سے مذاکرات کے حوالے سے آپ کی نیت صاف ظاہر ہوتی ہے۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات ختم نہیں کیے، جب مذاکرات ایک طرف سے ختم ہوگئے تو حکومت کس سے بات کرے؟ یہ بچوں کا کھیل نہیں، یہ اگر مگر سے نکلیں، جب طے ہوا تھا 28 تاریخ کو بیٹھیں گے، تو آئیں بیٹھیں، ہمیں سنیں۔انہوں نے کہا کہ معاملہ یہ ہے کہ جیل کا پھاٹک کھلتا ہے اور کوئی صاحب اچانک مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیتے ہیں، اور مذاکراتی کمیٹی کو پتا بھی نہیں ہوتا، نہ حکومتی کمیٹی کو علم ہوتا ہے۔عرفان صدیقی نے کہا کہ جب سارے عمل کی باگ دوڑ ایک شخص کے ہاتھ میں ہو اور مذاکرات کے آداب، سلیقے اور افہام تفہیم اْن کے نصاب کا حصہ نہ ہوں، بیرسٹر گوہر مذاکراتی کمیٹی کے رکن نہیں، وہ اپنی کمیٹی سے کہیں کہ جو وعدہ کیا تھا، اس کے مطابق جا کر بیٹھیں، آئیں اور ہمارا جواب سنیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک دن کچھ کہتے ہیں، دوسرے دن کوئی بات کرتے ہیں، ہم اس کھیل کا حصہ نہیں بن سکتے، جس میں کوئی یقین نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی بیرسٹر گوہر کا اعلان کر پی ٹی ا ئی بنانے کا
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
اسلام آباد:سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔
کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔
سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔