اسلام آباد(وقائع نگار) حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی کی عدم شرکت کے باعث اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس میں حکومتی کمیٹی کے 6 اراکین شریک تھے، تاہم اپوزیشن کی طرف سے کوئی نمائندہ نہ آیا۔

اجلاس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اجلاس کے سات ورکنگ ڈیز کے بعد ممبران کو نوٹس بھیجے گئے تھے، اور توقع تھی کہ پی ٹی آئی کے اراکین شرکت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتی ٹیم نے 45 منٹ تک انتظار کیا اور اپوزیشن کو میسج بھی بھیجا، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اسپیکر نے کہا کہ مذاکرات ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہیں، لیکن پی ٹی آئی کی عدم شرکت کے باعث کمیٹی کا اجلاس جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مذاکراتی کمیٹی برقرار رہے گی اور اپوزیشن کے آنے کا انتظار کیا جائے گا۔

نائب وزیراعظم اوروزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے مثبت نیت کے ساتھ مذاکرات کی تیاری کی تھی اور پی ٹی آئی کی غیر موجودگی میں کوئی یکطرفہ بیان دینا مناسب نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ بیٹھ کر بات چیت کی جائے۔ حکومت نے آئین اور قانون کے دائرے میں اپوزیشن کے مطالبات پر جواب تیار کیا تھا، جو اپوزیشن کے ساتھ شیئر کیا جانا تھا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ماضی میں بھی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے گئے ہیں، جیسا کہ 126 دن کا دھرنا بات چیت کے ذریعے ختم ہوا تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن کمیٹی سے رابطہ کرے گی اور مذاکرات کی راہ دوبارہ بحال ہوگی۔

اجلاس کے اختتام پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے لیے پی ٹی آئی کی شرکت کا انتظار کیا جائے گا۔ تاہم، اپوزیشن کی غیر حاضری کی وجہ سے کمیٹی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کمیٹی کا اجلاس پی ٹی آئی کی کہ مذاکرات

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار نے مشترکہ مصوری کی تقریب میں شرکت کی
  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے