شاہراہ بلتستان پر ٹنلز بنانے اور غیر مقامی سیاحوں سے ٹیکس کی وصولی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
شاہراہ بلتستان پر ٹنلز اور حفاظتی شیڈز بنانے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں باہر سے آنے والے سیاحوں سے ٹول ٹیکس کی وصولی کا بھی فیصلہ کرلیا گیا تاہم مقامی لوگ ٹول ٹیکس سے مستثنی ہونگے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی حکومت نے جگلوٹ سکردو روڈ (شاہراہ بلتستان) پر دو ٹنلز اور سات مقامات پر حفاظتی شیڈز تعمیر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق شاہراہ بلتستان پر ٹنلز اور حفاظتی شیڈز بنانے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں باہر سے آنے والے سیاحوں سے ٹول ٹیکس کی وصولی کا بھی فیصلہ کرلیا گیا تاہم مقامی لوگ ٹول ٹیکس سے مستثنی ہونگے۔ ٹول ٹیکس کی وصولی سے صوبائی حکومت کو علاقے کی شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کیلئے وفاق پر تکیہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور شاہراہوں کی تزئین و آرائش کیلئے مقامی سطح پر آمدن کا بندوبست ہو گا۔ اس سے علاقے کو خوبصورت بنانے اور شاہراہوں کی تعمیر و مرمت فوری کرنے میں مدد ملے گی۔ رپورٹ کے مطابق شاہراہ بلتستان پر ٹنلز اور حفاظتی شیڈز بنانے اور علاقے میں داخل ہونے والے غیر مقامی سیاحوں سے ٹول ٹیکس کی وصولی کا فیصلہ اسلام آباد میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے ساتھ وزیر اعلی حاجی گلبر خان اور صوبائی وزیر خزانہ انجینئر اسماعیل کی ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔
اس موقع پر چیئرمین این ایچ اے شہریار سلطان اور سکرٹری مواصلات بھی موجود تھے۔ وزیر اعلی حاجی گلبر خان اور وزیر خزانہ انجینئر اسماعیل نے شاہراہ بلتستان اور دیگر ایشوز سے متعلق وفاقی وزیر مواصلات عبد العلیم خان، چیئرمین این ایچ اے شہریار سلطان اور سکریٹری مواصلات کو آگاہ کیا اور ان کے حل کیلئے حکمت عملی بنانے کی درخواست کی۔ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ شاہراہ بلتستان کو حادثات سے محفوظ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، دو مقامات پر ٹنلز بنائی جا رہی ہیں، باقی سات مقامات پر حفاظتی شیڈز بنائے جائیں گے۔ حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی جائے گی۔ منصوبے پر تقریبا 15 ارب روپے خرچ ہونگے۔ منصوبہ این ایچ اے سے منظور ہونے کے بعد ایکنک میں بھیج دیا گیا ہے منصوبے پر جلد کام شروع کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ شاہراہ کو حادثات سے محفوظ بنایا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شاہراہ بلتستان پر ٹنلز ٹیکس کی وصولی کا حفاظتی شیڈز سیاحوں سے ٹنلز اور
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان