Jasarat News:
2026-07-24@13:45:17 GMT

کراچی ریڈ لائن منصوبہ:تکمیل کب ہوگی؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT

کراچی ریڈ لائن منصوبہ:تکمیل کب ہوگی؟

کراچی شہر کی سفری مشکلات کو کم کرنے کے وعدے کے ساتھ شروع کیا گیا بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ، تاخیر، بدانتظامی اور لاپروائی کی ایک المناک داستان بن چکا ہے۔ 2021 میں ایشیائی ترقیاتی بینک اور سندھ کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے تعاون سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ، جسے 2025 تک مکمل ہونا تھا، ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود اب بھی ادھورا ہے۔ اس تاخیر نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ منصوبے کی لاگت بھی ابتدائی تخمینے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ منصوبے کی ابتدائی لاگت 79 ارب روپے تھی، جو اب بڑھ کر 139 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافی اخراجات نہ صرف سرکاری وسائل کے ضیاع کی عکاسی کرتے ہیں، بلکہ منصوبہ بندی میں خامیوں، بدعنوانی اور انتظامی نااہلی کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔ لاگت میں یہ اضافہ اس بات پر سوالیہ نشان ہے کہ عوامی ٹیکس کے پیسے کو کس قدر شفافیت اور دیانتداری سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بی آر ٹی منصوبے کی لاگت اور اس کے انتظام پر سنجیدہ سوالات ابتدا ہی سے اُٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر تمام سات بی آر ٹی لائنیں فعال ہو بھی جائیں تو یہ کراچی میں کل سفری ضرورت کا صرف 9 فی صد پورا کرے گی۔ موجودہ حالات میں شہر میں روزانہ 30 ملین سے زیادہ لوگ سفر کرتے ہیں اور آبادی کے ساتھ یہ تعداد مزید بڑھے گی۔ نتیجتاً، مسافروں کی بڑی اکثریت کو اس نظام سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچے گا۔ بی آر ٹی سسٹم نہ صرف سڑکوں پر پہلے سے موجود ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں ناکام رہے گا بلکہ مخصوص لینز کے قیام سے سڑکوں کی دستیاب جگہ بھی محدود ہو جائے گی۔ یہ صورتحال موٹر سائیکل، کار، ڈیلیوری وینز، واٹر ٹینکرز، اور آئل ٹینکرز جیسے دیگر ذرائع نقل و حمل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جائے گی۔ مزید برآں، ٹریفک جام کے باعث فضائی آلودگی میں بھی اضافہ مزید ہوگا۔ سردست اس تاخیر کا سب سے بڑا بوجھ کراچی کے لاکھوں شہریوں پر پڑ رہا ہے، جو روزانہ یونیورسٹی روڈ، صفورہ چورنگی، ملیر ہالٹ، اور ماڈل کالونی جیسے مصروف علاقوں سے سفر کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں تعلیمی اداروں اور دفاتر کی کثرت کے باعث پہلے ہی ٹریفک کا دباؤ بہت زیادہ تھا، جسے منصوبے کی تاخیر نے مزید بڑھا دیا ہے۔ منٹوں کا سفر اب گھنٹوں پر محیط ہو چکا ہے، جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کراچی کو فوری، درمیانی اور طویل مدتی نقل و حمل کے حل درکار ہیں۔ کم لاگت اور فوری عمل درآمد کے لیے بسوں اور بڑی گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ سڑکوں سے تجاوزات کو مستقل بنیادوں پر ہٹانا اور ٹریفک کے بہتر انتظام سے بھی شہریوں کو سفری سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اب تو شاید کچھ نہیں ہوسکتا اگر وقت پر ماہرین کی رائے پر کان دھرے جاتے تو بی آر ٹی سسٹم پر سرمایہ لگانے کے بجائے زیادہ موثر، کم لاگتی اور فوری طور پر نتائج دینے والے حل تلاش کرنا کراچی کے عوام کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا۔ لیکن اب یہ منصوبہ ایک حقیقت ہے جو شہریوں کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا، لیکن ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اب ان کے لیے تکلیف دہ تجربہ بن چکا ہے۔ حکومت اور منصوبہ ساز اداروں کی غیر سنجیدگی اور عدم توجہ کی قیمت عوام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ ریڈ لائن منصوبے کی تاخیر کے مضمرات صرف شہریوں کی سفری مشکلات تک محدود نہیں بلکہ اس کے مالیاتی اثرات بھی خطرناک ہیں۔ منصوبے کی تاخیر سے لاگت میں اضافہ، وسائل کا ضیاع، اور ترقیاتی بجٹ پر اضافی بوجھ عوامی فلاح و بہبود کے دیگر منصوبوں پر بھی منفی اثر ڈال رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریڈ لائن منصوبے کی تاخیر کے اسباب کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمے داروں کا تعین کیا جائے۔ یہ صورتحال صرف ایک منصوبے کی ناکامی نہیں، بلکہ حکومتی سطح پر منصوبہ بندی اور انتظامی نظام کی خامیوں کا ایک واضح ثبوت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس منصوبے کو فوری طور پر پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی، مستقبل میں ایسے منصوبوں کو بہتر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے شفافیت، جوابدہی اور موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ کراچی کے شہریوں کو ان کی مشکلات سے نجات دلانا سب سے اہم ضرورت ہے، اور اس کے لیے فوری اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: منصوبے کی تاخیر شہریوں کی کرتے ہیں ریڈ لائن بی ا ر ٹی کے لیے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر ‘اسکائی 47 قراقرم ون’ کا افتتاح کر دیا
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہوگی؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال